گورنر کے بلانے سے نہیں،اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے سے بنے گی حکومت

May 15, 2018 11:44 PM IST | Updated on: May 15, 2018 11:48 PM IST

کرناٹک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔کانگریس۔جے  ڈی ایس اتحاداتحاد اور بی جے پی دونوں نے حکومت بنانے کیلئے قواعد شروع کر دئے ہیں۔آئین کے ماہرین ،گورنر کا پہلے کسی پارٹی یا اتحاد کو حکومت بنانے کیلئے بلانا اہم نہیں ہے۔اہم یہ ہے کہ حلف لینے کے بعد سی ایم اسمبلی میں کے اپنی اکثریت ثابت کر پاتے ہیں یا نہیں ۔اگر گورنر کی جانب سے پہلے بلائی گئی پارٹی یا اتحاد اسمبلی میں اکثریت ثابت نہیں کار پاتا ہے تو اسے استعفی دینا پرتا ہے۔

ایسے حالات میں کرناٹک کے ہی سابق سی ایم ای آر بوممئی بنام مرکزی حکوت کے معاملے میں کورٹ نے کہا تجا کہ اکثرہت کا فیصلہ راج بھون میں نہیں بلکہ اسمبلی کے ٹیبل پر ہوگا۔روایت ہے کہ گورنر سب سے بڑی پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دیتی ہے۔؎

گورنر کے بلانے سے نہیں،اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے سے بنے گی حکومت

گورنر کا پہلے کسی پارٹی یا اتحاد کو حکومت بنانے کیلئے بلانا اہم نہیں ہے۔اہم یہ ہے کہ حلف لینے کے بعد سی ایم اسمبلی میں کے اپنی اکثریت ثابت کر پاتے ہیں یا نہیں ۔

کرناٹک میں حکومت بنانے کیلئے کانگری۔جے ڈی ایس کی دوستی پر بی جے پی کی جانب سے سی ایم کے عہدے کے امیدار بی ایس یدیورپا نے کہا کہ کرناٹک میں 100 فیصد بی جے کی حکومت بنے گی۔انہوں نے اس سے پہلے کہا کہ کانگریس کو لوگوں نے نکارپ ہے اور بی جے پی کو اپنایا ہے۔عوام کانگریس مکت ہندستان کی جانب بڑھ رہی ہے۔کانگریس کو کرناٹک کی عوام نےمستردکر دیا پھر بھی کانگریس طاقت بتورنا چاہتی ہے۔ادھر چناؤ کے نتائج کے بعد سی ایم سدا رمیان نے گورنر وجو بھائی والا کو اپنا استعفی سونپ دیا ہے۔

اس سے پہلے یدیو رپا نے کرناٹک کی عوام کو اکثریت دینے کیلئے شکریہ بھی ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس گزشتہ سیڑھی سے اقتدار حاصلک کرنا چاہتی ہے۔کانگیس کی اس کوشش کو عوام سہہ نہیں پائے گی۔یدیو رپا نے کہا کہ پارٹی کے ساتھ چرچا کے بعد ہی مستقبل کی حکمت عملی پر وہ کچھ کہہ پائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز