کرناٹک حکومت بالواسطہ طو پر اردو زبان کو ختم کرنے کی کر رہی ہے کوشش

Nov 14, 2017 12:12 PM IST | Updated on: Nov 14, 2017 12:12 PM IST

بنگلورو۔ کرناٹک حکومت ریاست  کے ہائی اسکولوں سے تھری لینگویج فارمولے کو ہٹا کر دولنگویج فارمولہ نافذ کرنے پر غور کر رہی  ہے ۔ اہل اردو اسکی سخت مخالفت کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر  پرائمری کے بعد اردو طلبا کو صرف دو زبانیں ہی منتخب کرنا ہوتو وہ علاقائی زبان کنڑا اور بین الاقوامی زبان انگریزی منتخب کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس سے اردو کے مستقبل پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ کرناٹک میں اردو زبان پر منڈلا رہے خطرات کے بادل  سے ریاست کے ہزاروں اردو  ہائی اسکول بند ہو سکتے ہیں۔ ٹو لنگویج فارمولے کی آڑ میں اردو  میڈیم  ہائی اسکول حکومت کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔

  ہائی اسکولوں میں   تین زبانوں کی جگہ  دو زبان فارمولے کا نفاذ حکومت کے زیر غور ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ طلبا کو زبانیں سیکھنے کا اضافی بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہے۔  کرناٹک حکومت کے اس منصوبے سے ریاست کے اردو طبقے میں کافی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ انکا کہنا ہے  کہ  دولسانی فارمولےسے سب سے زیادہ اردو متاثر ہوگی ۔ کرناٹک میں 1968 سے سہ لسانی فامولہ نافذ ہے۔ اسکے تحت کنڑا، انگریزی، اردو، تمل، تیلگو، مراٹھی اور ہندی کو پہلی، دوسری یا تیسری زبان کے طور پر اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق دسمبر سے قبل یہ تجویز کابینہ میں پیش کی جا سکتی ہے۔

کرناٹک حکومت بالواسطہ طو پر اردو زبان کو ختم کرنے کی کر رہی ہے کوشش

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز