کرناٹک میں سالانہ امتحانات کے نتائج میں گرواٹ، رینک لسٹ میں مسلم طلبہ کی نمائندگی نہ کے برابر

May 18, 2017 11:48 PM IST | Updated on: May 18, 2017 11:48 PM IST

بنگلورو : سالانہ امتحانات کےنتائج میں ساحلی اضلاع سرفہرست رہے ہیںجبکہ مسلمانوں کی کثیرتعداد والے بیدر، گلبرگہ، رائچور، یادگیر، بلگام، بیجاپور اورچند دیگراضلاع نتائج کی فہرست میں درمیانی یا آخری حصہ میں نظرآ رہے ہیں ۔ بحرحال ان نتائج سےصاف ظاہرہو رہا ہےکہ ریاست کرناٹک میں دیگرطبقوں کے مقابلہ میں مسلمان تعلیمی میدان میں کافی پیچھےہیں۔ مسلم دانشور ان کہتے ہیں کہ حکومتوں سے زیادہ خودمسلمان اپنی تعلیمی پسماندگی کیلئےذمہ دارہیں۔

دسویں اور بارہویں جماعت کےامتحانات طلبہ کی زندگی کا ایک اہم موڑہوتے ہیں۔ کرناٹک میں اس مرتبہ سالانہ امتحانات کےنتائج میں گراوٹ دیکھنے کوملی ہے۔ مسلم طلبہ کا مظاہرہ اورمسلم انتظامیہ کےتحت چلنے والےاداروں کےنتائج بھی کچھ خاص نہیں رہے ہیں۔

کرناٹک میں سالانہ امتحانات کے نتائج میں گرواٹ، رینک لسٹ میں مسلم طلبہ کی نمائندگی نہ کے برابر

ریاست کرناٹک میں ایس ایس ایل سی اورپی یوسی کےنتائج اطمینان بخش نہیں رہے ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلہ اس بارایس ایس ایل کے نتائج میں 8 فیصد جبکہ پی یوسی دوم کے نتائج میں تقریبا پانچ فیصد گراوٹ دیکھنے کوملی۔ سالانہ امتحانات کے نتائج میں آئی کمی کےسلسلے میں وزیرتعلیم تنویرسیٹھ کا کہنا ہے کہ اس سال سے گریس مارکس دینے کی روایت کوختم کیا گیا ہے۔ امتحانات میں مکمل شفافیت برتی گئی۔

ایک جانب مجموعی نتائج کم ہوئے ہیں تودوسری طرف مسلم طلبہ اورمسلم تعلیمی اداروں کا مظاہرہ بھی خاص نہیں رہا ہے۔ ریاستی اور ضلعی سطح پررینک کی فہرست میں مسلم طلبہ کی نمائندگی نہ کے برابرہے۔ مسلم انتظامیہ کےتحت چلنےوالے تعلیمی اداروں کےنتائج میں بھی کمی آئی ہے۔ مسلم دانشوران کہتے کہ مسلمانوں کو اس مسئلہ پرمل بیٹھ کرغورکرنےکی ضرورت ہے۔ مسلمان اپنی تعلیمی صورتحال کاجائزہ لیں ، وہیں حکومت اسکولوں اورکالجوں کوبنیادی سہولیات سے آراستہ کرے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز