کیرالہ : مسلم لڑکے کی ہائی کورٹ میں عرضی ، بیوی کو اس کے والدین سے بچائیں

Jun 13, 2018 11:56 PM IST | Updated on: Jun 13, 2018 11:56 PM IST

کوزی کوڈ ضلع کے ایک مسلم نوجوان نے کیرالہ ہائی کورٹ میں اپنی اہلیہ کو اس کے والدین کے قبضہ سے آزاد کرانے کیلئے عرضی داخل کی ہے۔ نوجوان نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ اس کی اہلیہ پیدائش سے ہندو تھی ، لیکن اس نے اسلام قبول کرلیا ہے۔

جسٹس وی چتامبریش اور جسٹس کے پی جیوتیندرناتھ کی بینچ نے فیصل محمود کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے بنگلورو میں رہنے والی لڑکی کے والدین کو نوٹس جاری کیا ہے۔ محمود نے بتایا کہ وہ بنگلورو میں ہوٹل لائن میں تھا ، تبھی دونوں میں پیار ہوگیا ۔ تقریبا دو سال کے رشتہ کے بعد لڑکی نےاسلام قبول کرلیا اور نکاح کرکے کوذی کوڈ میں رہنے لگی ۔

کیرالہ : مسلم لڑکے کی ہائی کورٹ میں عرضی ، بیوی کو اس کے والدین سے بچائیں

علامتی تصویر

حالانکہ لڑکی کے والد اور رشتہ داروں کے دباو میں کوزی کوڈ پولیس نے ان سے زبردستی سادہ اسٹامپ پیپر پر دستخط کروایا اور دونوں کو بنگلورو پولیس کو سونپ دیا۔ بعد میں بنگلورو پولیس نے لڑکی کو اس کے والدین کے ساتھ بھیج دیا ۔ نوجوان نے الزام لگایا کہ 28 مارچ سے دو اپریل کے درمیان اسے جسمانی اور ذہنی طور پرپریشان کیا گیا۔

نوجوان کا الزام ہے کہ 29 مئی کو اس کو دھمکی آمیز فون آیا ۔ اسے اپنی اہلیہ کو بھولنے کیلئے کہا گیا اور ایسا نہ کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ۔ اس کا کہنا ہے کہ پانچ جون کو اسے دوبارہ ایسی دھمکی ملی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز