کیرالہ : طلاق کیلئے نہیں بتائی گئی کوئی مناسب وجہ ، عدالت نے ڈاک کے ذریعہ دیا گیا طلاق کیا رد

May 18, 2017 06:34 PM IST | Updated on: May 18, 2017 06:34 PM IST

ملپورم (کیرالہ): ملک میں تین طلاق کے سلسلے میں جاری تنازعہ کے دوران کیرالہ میں ملپورم کی ایک عدالت نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے جس میں پانچ سال پہلے ڈاک کے ذریعہ دیئے گئے تین طلاق کو رد کردیا۔ ملپورم فیملی کورٹ کے جج رمیش بھائی نے ارکوڈ اورنگیٹل کے رہنے والے علی فیضی پاوننا کے ذریعہ پانڈاراکنڈی کی جمیلہ کوتین طلاق دینے کی مناسب وجہ نہ ہونے کے سبب خارج کردیا۔

فیضی نے 2012 میں ڈاک کے ذریعہ اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ اس کے بعد جمیلہ نے قانونی کارروائی اور گزارا بھتہ بڑھانے کیلئے عدالت میں اپیل کی تھی۔ جمیلہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پایا کہ طلاق دیتے وقت قرآن میں طے کئے گئے ضابطوں کی پیروی نہیں کی گئی تھی اور طلاق کیلئے کوئی مناسب وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

کیرالہ : طلاق کیلئے نہیں بتائی گئی کوئی مناسب وجہ ، عدالت نے ڈاک کے ذریعہ دیا گیا طلاق کیا رد

عدالت نے 2012 میں اترپردیش کی شیمی آیا مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بنیاد بنایا، جس میں سپریم کورٹ نے پایا تھاکہ دو رشتہ داروں کی ثالثی کے بعد بھی ملزم نے معاملے کو سلجھانے کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تھا۔ فیضی کو پہلی بیوی سے ایک بیٹا ہے۔ اس کے بعد اس نے تین اور شادیاں کیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز