جانوروں کی خرید وفروخت سے متعلق مودی حکومت کے نوٹیفکیشن کو رد کرنے سے کیرالہ ہائی کورٹ کا انکار

May 31, 2017 08:10 PM IST | Updated on: May 31, 2017 08:10 PM IST

کوچی: کیرالہ ہائی کورٹ نے آج اس مرکزی اعلامیہ کو کالعدم قرار ددینے سے متعلق مفادعامہ کی عرضی کو سماعت کے لئے قبول کرنے سے انکار کردیا، جس میں جانوروں کی بوچڑ خانوں کو فروخت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ ان قواعد میں کوئی دستوری خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔

چیف جسٹس نونیتی پرساد سنگھ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ مرکز کے اعلامیہ میں اس کی مداخلت غیرضروری ہے۔ بنچ نے کہا کہ اعلامیہ میں بیف کھانے یا اس کی فروخت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ عدالت کے اس تبصرہ کے بعد اے جی سنیل نامی عرضی گذار نے اپنی عرضی واپس لے لی۔

جانوروں کی خرید وفروخت سے متعلق مودی حکومت کے نوٹیفکیشن کو رد کرنے سے کیرالہ ہائی کورٹ کا انکار

عرضی گذار کا کہنا تھا کہ مرکز کے اعلامیہ سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے جن کی ضمانت دستور کی دفعہ 19(1) میں دی گئی ہے‘ اس لئے اس اعلامیہ کو کالعدم قرار دیا جائے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ اُسے اعلامیہ کے قواعد میں کوئی غیرقانونی بات نظر نہیں آتی ہے جن کا خدشہ عرضی گذار نے ظاہر کیا ہے۔

کیرالہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جبکہ ایک دن قبل ہی مدراس ہائی کورٹ اس حکم پر روک لگا چکی ہے۔ مدراس ہائی کورٹ کا ادعا ہے کہ قواعد کو پہلے پارلیمنٹ کی جانب سے منظوری دی جانی چاہئے۔ جسٹس ایم وی مرلیدھرن اور سی وی کارتکیان پر مشتمل بنچ نے دو عرضیوں پر عبوری احکامات جاری کئے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز