ہر بین مذاہب شادی کو لو جہاد کی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا ، نفرت نہ پھیلائی جائے : کیرالہ ہائی کورٹ

Oct 20, 2017 01:04 PM IST | Updated on: Oct 20, 2017 02:31 PM IST

کننور : کیرالہ ہائی کورٹ نے مبینہ لو جہاد کے معاملہ پر سخت تبصرہ کیا ہے ۔ ہائی کورٹ کی ایک ڈویزنل بینچ نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر بین مذاہب شادی کو لو جہاد کی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عدالت نے کہا کہ بین مذاہب شادی کو صرف مذہب کے چشمے سے دیکھنا انتہائی غلط ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ ایک ہندو لڑکی اور ایک مسلم لڑکے کی شادی سے متعلق داخل ایک عرضی کی سماعت کے دوران کیا۔عدالت نے دونوں کی شادی کو بھی برقرار رکھا ہے۔

وی چتنبریش اور ستیش نگانا کی بینچ نے کننور کے رہنے والے شرتی اور انیس حمید کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ریاست میں ہر بین مذاہب شادی کو لو جہاد یا گھر واپسی کی نظر سے دیکھے جانے کے ٹرینڈ کو دیکھ کر فکر مند ہیں۔ ایسا تب کیا جارہا ہے جب شادی سے قبل دونوں کے درمیان گہری محبت رہی ہو۔ اس دوران ہائی کورٹ نے لتا سنگھ اور اترپردیش حکومت معاملہ میں 2004 میں آئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا تذکرہ بھی کیا۔

ہر بین مذاہب شادی کو لو جہاد کی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا ، نفرت نہ پھیلائی جائے : کیرالہ ہائی کورٹ

قابل ذکر ہے کہ انیس احمد نے اپنی اہلیہ کو اہل خانہ کے ذریعہ نظر بند کئے جانے کے خلاف کیرالہ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جس پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے دونوں کو ایک ساتھ رہنے کی اجازت دیدی ہے۔ اس دوران ہائی کورٹ نے شرتی کے اہل خانہ کی اس عرضی کو خارج کردیا ، جس میں انیس کے خلاف کیس چلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ شرتی نے 16 مئی کو انیس کے ساتھ اپنا گھر چھوڑ دیا تھا ۔ اہل خانہ کی شکایت پر پولیس نے انہیں ہریانہ کے سونی پت سے گرفتار کیا تھا ۔ شروعات میں نچلی عدالت نے لڑکی کو اس کے والدین کے ساتھ رہنے کی اجزات دیدی تھی ، اس کے بعد لڑکی کے اہل خانہ نے اسے ایک یوگ کیندر میں داخل کروادیا ۔ تاکہ وہ مسلم نوجوان کو بھول جائے ۔

اس کے بعد لڑکی نے ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے الزام عائد کیا کہ یوگ کیندر میں اس کو اذیت دی گئی ۔ معاملہ کی عدالت میں جاری سماعت کے درمیان ہی دونوں نے شادی کرلی ۔ بینچ نے لڑکی ہمیت کی سراہنا کرتے ہوئے اس کی شادی کو بھی برقرار رکھا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز