حیدرآباد : اسسٹنٹ سب انسپکٹر سید معراج کا انوکھاکارنامہ ، پٹرول ختم ہونے پر گاڑی دھکیلنے والوں کو مفت میں دے رہے ہیں پٹرول

Mar 12, 2017 10:57 AM IST | Updated on: Mar 12, 2017 11:01 AM IST

حیدرآباد: سماج اور معاشرہ کا حصہ رہتے ہوئے اُسی سماج کے لئے کچھ کرنے کا شوق جب انسان میں پروان چڑھتا ہے تو یہ کام معاشرتی اقدار کا حصہ بن جاتا ہے۔ اپنی چھوٹی سی کوشش کے ذریعہ انسانوں کی خدمت کرتے ہوئے اپنے جوش وجنون اور انفرادی کام سے اُسی سماج میں منفرد مقام بنانا بڑی بات ہے۔  ہجوم سے الگ ہونے کی چاہ، انسانیت کے لئے مثال بننے کی امیداور اپنے جذبہ سے انسانوں کا سہارا بننا عام بات نہیں ہے۔ایک ایسی ہی مثال شہر حیدرآباد میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر سید معراج الدین حیدری نے پیش کی ہے جو اپنی منفرد سعی سے سماج کا دیا ہوا اُسی کو لوٹا رہے ہیں ۔ ان کا احساس ہے کہ سماج نے آپ کو کیا دیا ہے نہ دیکھیں بلکہ آپ نے سماج کو کیا دیا ہے ، اُس پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔

آج اُن کی یہ کوشش انہیں دوسروں میں ممتاز بناتی ہے کیونکہ سماج کے لئے کچھ کرنے کی جستجو اور اسی جستجو کے ساتھ خوابوں کے لئے لڑنا عام بات نہیں ہے۔سید معراج الدین بھی اس کی واضح مثال ہیں جولوگوں کیتکلیف کو خود کی تکلیف سمجھتے ہوئے ان کی مدد کرتے ہیں۔شہر حیدرآباد کے یوسف گوڑہ کے رہنے والے معراج الدین ،بیگم پیٹ چوراہے پر تعینات ہیں جو ضرورت مند سواروں کو مفت میں پٹرول فراہم کرتے ہوئے انوکھی خدمت کررہے ہیں۔

حیدرآباد : اسسٹنٹ سب انسپکٹر سید معراج کا انوکھاکارنامہ ، پٹرول ختم ہونے پر گاڑی دھکیلنے والوں کو مفت میں دے رہے ہیں پٹرول

Pic : hyderabadi.co.in

بیگم پیٹ چوراہے پر آپ کی گاڑی میں پٹرول ختم ہوجائے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ سید معراج الدین آپ کی مدد کو فوری طورپر پہنچ جائیں گے ۔ان کے ہاتھ میں پٹرول کی بوتل ہوگی ۔وہ اپنی اس انوکھی پہل کے ذریعہ نہ صرف اپنے محکمہ بلکہ سماج میں بھی علحدہ مقام بناچکے ہیں۔

پٹرول ختم ہونے پر گاڑی ڈھکیلنے والوں کی مدد کرنا اور انہیں مفت میں پٹرول فراہم کرنا ان کے فرض کا حصہ بن چکا ہے ۔ایسے افراد کے لئے ہی وہ اپنی اسکوٹی میں پٹرول کی چھ بوتلیں رکھتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ سماج کی مدد کرنے کی ایک اسٹوری نے ان میں یہ جذبہ پیداکیا اور وہ سماج کو اُسی کا دیا ہوا لوٹارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایک دفعہ این ڈی ٹی وی پر انہوں نے خبروں میں ایک اسٹوری دیکھی جو کا فی متاثرکن تھی ۔اس اسٹوری میں دکھایا گیا تھا کہ ایک وظیفہ یا ب اپنے وظیفہ کی رقم سے سڑکوں کے گڑھے بھرنے کا کام کررہا ہے ۔

یہ دراصل تقریبا ایک سال پہلے کی بات ہے ۔اسی اسٹوری نے ان کے ذہن میں سماج کے لئے کچھ کر نے کی چاہ پیداکی اور اُسی چاہ کو انہوں نے عملی طورپر کرکے دکھایا اور ان کی اسی کو شش نے ان کو نمایاں حیثیت دی ۔ہرکام رقم کے لئے یا پھر مفاد یا پھر ذاتی تشہیر کے لئے کرنا ایک الگ بات ہے لیکن اس طرح کی بے لوث سماجی خدمت کسی جذبہ کے ساتھ کرنا لائق تحسین کارنامہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب ایک وظیفہ یاب اپنی وظیفہ کی رقم سے سڑکوں کے گڑھے بھر سکتا ہے تو پھر وہ تو برسرخدمت ہیں۔وہ سماج کے لئے کچھ انوکھاکیوں نہیں کرسکتے ۔اس اسٹوری کو دیکھنے کے بعد سے ذہن میں لوگوں کی مدد کرنے کی اختراعی سونچ ابھری تھی۔ اسی اثنا میں تنخواہ کے نئے اسکیل نے ان کے حوصلے کو جلا بخشی اور نئے اسکیل نے اس سونچ کو عملی جامہ پہنانے میں مدد کی۔

انہوں نے کہاکہ گاڑی میں پٹرول ختم ہونے پر گاڑیوں کو ڈھکیل کر لے جاتے ہوئے لوگوں کو دیکھنا ان کو گراں گزرتا تھا کیونکہ وقت بے وقت گاڑی میں پٹرول اتفاقا ختم ہوجاتاہے جس سے بائیک سواروں کو ان کی گاڑیوں کو ڈھکیلتاہوا لے جانے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے ۔

اسی مرکزی خیال سے ان کو نیاکام کرنے کی سوجھی ۔معراج الدین اپنی اس مدد کے بدلے مددحاصل کرنے والوں سے کچھ بھی رقم نہیں لیتے بلکہ اپنے اس جذبہ اور ممنونیت پر انہیں لوگوں کی دعاوں کے ساتھ کافی ستائش بھی ملتی ہے۔ان کاکہنا ہے کہ انہوں نے اب تک 111سے زائدلوگوں کی مدد کی ہے اور ہر شخص اُ ن کی اس مدد سے کافی خوش ہوا ہے اوراس مدد پر انہیں بہتر ردعمل بھی حاصل ہوا ہے۔ ان سے مدد لینے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بات پر انہیں یقین نہیں ہورہا ہے کہ پولیس کاایک افسر ان کی مدد کررہا ہے ۔یہ ایک حیران کن اور چونکادینے والی بات ہے کیونکہ پولیس کا دل میں خیال آتے ہیں لوگ عموماخوف محسوس کرتے ہیں۔  یہ لوگ ان کی اس غیر متوقع مدد سے حیران بھی ہوتے ہیں لیکن ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے لوگوں کی مدد کرنا معراج الدین کامعمول بن گیا ہے اور اب وہ لوگوں کی مدد کرنے کے اس عمل سے کافی خوش ہیں۔

انہوں نے پُرجوش اندازمیں کہاکہ جب وہ گاڑی ڈھکیل کرلے جانے والوں کو مفت پٹرول فراہم کرتے ہیں تو وہ لوگ پٹرول کی مقررہ قیمت سے زائد قیمت اد ا کرنے کی بھی پیشکش کرتے ہیں لیکن وہ اس پیشکش کو قبول نہیں کرتے اوررقم لینے سے انکار کردیتے ہیں کیونکہ انہوں نے لوگوں کی مدد کرنے کو اپنا نصب العین بنالیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پٹرول ختم ہونے پر جب گاڑی ڈھکیلتے ہوئے آنے والوں کی مدد کے لئے وہ آگے آتے ہیں تو بعض لوگ خوفزدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کو ڈرہوتا ہے کہ پولیس افسر کیوں ان کے پاس آرہا ہے، لیکن معراج الدین انہیں سمجھاتے ہوئے ان کا خوف دورکرتے ہوئے ان کی مدد کرتے ہیں۔

ان کا احساس ہے کہ وہ لوگوں کو تکلیف میں مبتلا دیکھنا نہیں چاہتے ۔ان کے اس کارنامے پر انہیں سینئر افسروں سے بھی کافی ستائش ملی جن کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس میں آج تک کسی نے بھی ایسی اختراعی سونچ اور انوکھے کارنامے کے بارے میں نہیں سونچا۔دوسری طرف اُ ن سے مدد حاصل کرنے والے گاڑی سواروں نے بھی ان کی کافی ستائش کی ۔ان سے مدد حاصل کرنے والوں کااحساس ہے کہ اس طرح کے قدم سے پولیس اور عوام کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری پیداہوتی ہے۔ اس سرکاری افسرکی چھوٹی سی کوشش نے انہیں نہ صرف لوگوں کے قریب تر آنے بلکہ ان کے محکمہ میں بھی ان کاسرفخر سے اونچاکرنے میں مدددی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز