کرناٹک کے رائچور میں ’’ان سے ملئے ‘‘ پروگرام اور شعری نشست کا انعقاد

Jan 31, 2017 05:46 PM IST | Updated on: Jan 31, 2017 05:46 PM IST

کرناٹک۔ بزرگ شاعروں ادیبوں کے مجموعہکلام اور کتب ایک قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور غیر شائع شدہ مجموعہ کلام اور کتب کی اشاعت وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ان کے تلاف سے ادبی دنیا کو ایک بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار کرناٹک کے رائچورمیں منعقدہ ایک پروگرام میں  ریاست کی سرکردہ ادبی شخصیتوں اور دانشوروں نے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کرناٹک کے رائچور میں ریاستی اردو اکیڈیمی اور بزم شعور وادب کے اشتراک سے’ان سے ملئے‘ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر جنوبی ہند کے معروف شاعر شیدا رومانی کا تعارف پیش کیا گیا۔  پروگرام کی صدرات پیرطریقت ڈاکٹرسید شاہ تاج الدین قادری نے کی ۔

کرناٹک اردو اکیڈیمی کے رکن اکرم نقاش، شعراء کرام محب کوثر اور وحید واجد نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ اکرم نقاش، شعرا کرام محب کوثر، وحید واجد ، ڈاکٹر سید تاج الدین قادری اور ڈاکٹر سید افتخار شکیل نے شاعر شیدا رومانی کی زندگی، ادبی کارناموں اورخدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ شید رومانی نے شاعری کی دنیا میں تمام اصناف میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ ڈاکٹر افتخار شکیل اورعرفان رائچور ی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔  اس موقع پر ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے وائس چیئرمین محمد رسول، سابق  چیئرمین جانی میاں،  نیو ایجوکیشن سوسائٹی کے رکن محمد عثمان کےعلاوہ ادبا میں ظہیر بایار،عظمت اللہ خان عظمت ، اشرف علی خان گوہر، محمد ذیشان ساز  و دیگرموجود رہے ۔

کرناٹک کے رائچور میں ’’ان سے ملئے ‘‘ پروگرام اور شعری نشست کا انعقاد

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز