نوٹیفیکیشن کے باوجود رائچور میں مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت صرف ایک درخواست ہوئی موصول

Jul 14, 2017 04:52 PM IST | Updated on: Jul 14, 2017 04:52 PM IST

رائچور : اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے مقصد سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے مختلف اسکیموں اور پروگراموں کو عمل میں لایا جاتا ہے ، لیکن اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ بہت کم ہی اسکیموں کا اقلیتوں تک فائدہ پہنچ پاتا ہے ۔ یہی حال کرناٹک کے رضلع رائچو میں محکمہ اقلیتی بہبود کی ایک نئی اسکیم کا بھی ہے ۔

حکومت کرناٹک نے دینی مدارس کی جدید کاری کیلئے مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کا آغازکیا ہے۔ مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت مدرسہ میں طلبہ کے قیام اور تعلیم کیلئے کمروں کے علاوہ کھیل کا میدان، باورچی خانہ، حمام خانہ اوربیت الخلاء کی تعمیر، اساتذہ اور عملہ کی تنخواہ ، عصری وجدید تعلیم کیلئے کمپیوٹر س کی خریداری اور دیگر امور کیلئے ساڑھے بارہ لاکھ روپے کا گرانٹ دیا جاتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کیلئے تقریبا ڈیڑھ سے دو مہینے پہلے نوٹیفکیشن جاری ہوکے باوجود ضلع بھر سے صرف ایک ہی درخواست موصول ہوئی ہے ۔

نوٹیفیکیشن کے باوجود رائچور میں مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت صرف ایک درخواست ہوئی موصول

مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تعلق سے دینی مدارس کے ذمہ داروں کے منفی رد عمل کے تئیں دانشور طبقہ میں تشویش پائی جارہی ہے ۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تعلق سے دینی مدارس کے ذمہ داروں میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ۔جانکاروں کے مطابق گرانٹس کی اجرا سے عربی مدارس میں حکومت یا متعلقہ حکام کی کوئی مداخلت نہیں رہے گی ۔ گرانٹ حاصل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی سخت شرائط بھی عائد نہیں کی گئی ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز