قاضی کے ذریعہ جاری کردہ طلاق نامہ کی حیثیت صرف رائے کی ، کوئی قانونی جواز نہیں : مدارس ہائی کورٹ

Jan 12, 2017 05:43 PM IST | Updated on: Jan 12, 2017 05:43 PM IST

چنئی : مدراس ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم تبصرہ میں کہا ہے کہ طلاق پر صدر قاضی کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ صرف رائے کی حیثیت سے رکھتا ہے اور اس کاکوئی قانونی جواز نہیں ہے۔چیف جسٹس ایس کے کول اور ایم ایم سندریش پرمشتمل بنچ نے وکیل اورسابق رکن اسمبلی بدر سید کی دائر کردہ مفادعامہ کی درخواست پر عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ۔

خیال رہے کہ بدر سید کی درخواست میں قاضیوں کے جاری کردہ سرٹیفکیٹوں کی ، جس میں طلاق کی توثیق کی جاتی ہے ، تنقید کرتے ہوئے اس طرح کے سرٹیفکیٹس اوردیگر دستاویزات کی توثیق یا منظورکرنے سے انہیں روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بنچ نے قاضی ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ قاضی کوکوئی عدالتی یا انتظامی اختیار نہیں ہوتا۔

قاضی کے ذریعہ جاری کردہ طلاق نامہ کی حیثیت صرف رائے کی ، کوئی قانونی جواز نہیں : مدارس ہائی کورٹ

آل آنڈیامسلم پرسنل بورڈاور شریعت ڈیفنس فورم نے یہ موقف پیش کیاتھا کہ صدر قاضی کے جاری کردہ اسناد کی حیثیت شرعی امور پر دسترس ہونے کی بنا صرف رائے کی ہوتی ہے ۔ اس موقف کی تائید میں مسلم پرسنل لا کا اطلاق ایکٹ 1937کی دفعہ 2کو حوالہ دیاگیاتھا۔اس کیس کی اگلی سماعت 21فروری کو ہوگی ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز