علم ومعلومات کو اختصاص کے نام پر محدود کرنے کی بجائے اس میں وسعت و تنوع پیدا کیا جانا چاہیے : ڈاکٹر اسلم پرویز

ہمیں اپنے علم ومعلومات کو اختصاص (اسپیلائزیشن) کے نام پر محدود کرنے کی بجائے اس میں وسعت و تنوع پیدا کرنا چاہیے۔ انشا اللہ خاں انشا کی خدمات اور کارنامے جس کی روشن مثال ہیں۔‘‘

Aug 18, 2017 09:16 PM IST | Updated on: Aug 18, 2017 09:16 PM IST

حیدرآباد: ’’ہمیں اپنے علم ومعلومات کو اختصاص (اسپیلائزیشن) کے نام پر محدود کرنے کی بجائے اس میں وسعت و تنوع پیدا کرنا چاہیے۔ انشا اللہ خاں انشا کی خدمات اور کارنامے جس کی روشن مثال ہیں۔‘‘ اس بات کا اظہار ڈاکٹرمحمد اسلم پرویز ، وائس چانسلر نے آج یہاں انشاء اللہ خاں انشا پر منعقدہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں انشاء اللہ خاں انشاکی دو سو سالِ وفات کے موقع پر ساہتیہ اکیڈیمی کے اشتراک سے ایک روزہ قومی سمینار کا مانو کیمپس میں انعقاد عمل میں آیا تھا۔ ساہتیہ اکیڈیمی کے سکریٹری ڈاکٹر کے سری نواس راؤ نے استقبالیہ کلمات میں انشا اللہ خاں انشا کی علمی وادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے حوالے سے ساہتیہ اکیڈیمی کے مقاصد عزائم کا اظہار کیا اور کہا کہ اکیڈیمی کا مقصد قدیم نابغۂ روز گار شخصیات اور ماہرینِ علم و ادب کے کارناموں سے نئی نسل کو واقف کروانا ہے۔ سمینار کا کلیدی خطبہ پرو فیسر اشرف رفیع نے پیش کیا ۔انہوں نے انشا کے تمام علمی و ادبی کا رناموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔بحیثیت شاعر انشا کی خصوصیات ،جدتِ طبع، تخیل کی بلندی اور زبان پر کامل عبور کی متعدد مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ انشا مختلف زبانیں جیسے اُردو ،عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت اور ہندی وغیرہ پر قدرت رکھتے تھے۔ ان کی تصنیف ’’رانی کیتکی کی کہانی ‘‘ان کا ایسا کارنامہ ہے جس میں انھوں نے عربی ،فارسی کے استعمال سے اجتناب کرتے ہوئے کہانی لکھی ہے جو ان کی زبان دانی کا نادر نمونہ ہے۔انشا کا دوسرا کارنامہ ’’دریائے لطافت ‘‘ اُردو قواعد کی پہلی باضابطہ کتاب ہے۔

علم ومعلومات کو اختصاص کے نام پر محدود کرنے کی بجائے اس میں وسعت و تنوع پیدا کیا جانا چاہیے : ڈاکٹر اسلم پرویز

سمینار کے افتتاحی اجلاس کا آغاز ایم ۔اے سالِ دوم کے طالب علم محمد افروز کی قرأ ت کلام پاک سے ہوا ۔ڈاکٹر وسیم بیگم، اسوسیئٹ پروفیسر شعبۂ اردو نے شرکائے سمینار کا شکریہ ادا کیا۔افتتاحی اجلاس میں سمینار کے مندوبین ، یونیورسٹی کے ڈینس ، ڈائریکٹرس، صدورِ شعبہ جات، اساتذۂ کرام، غیر تدریسی عملے کر اراکین ، ریسرچ اسکالرس ، طلبہ اور شہر کے علم دوست اہلِ ذوق خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ سمینار میں تین تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس میں ڈاکٹر وسیم بیگم نے اپنا مقالہ بعنوان ’’انشاء کا ایک اہم کارنامہ دریائے لطافت ‘‘ پیش کیا۔دوسرا مقالہ پروفیسر صاحب علی نے ’’ انشا ء کی کردار نگاری رانی کیتکی کے حوالے سے ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔اس اجلاس کی صدارت پروفیسر فاطمہ پروین نے کی۔

دوسرے تکنیکی اجلاس میں پروفیسر فاطمہ پروین نے ’’لطائف السعادات اور انشاء اللہ خاں انشا‘‘کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ دوسرا مقالہ ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط نے بعنوان ’’انشاء کا اردونثر میں حصہ‘‘ اپنا مقالہ پڑھا۔اس اجلاس کی صدارت پروفیسر بیگ احساس نے کی۔ تیسرے تکنیکی اجلاس میں تین مقالے پڑھے گئے۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر شمس الہدیٰ دریابادی نے بعنوان’’ اردو فکشن کا نقش اولیں ’رانی کیتکی کی کہانی ‘‘ پیش کیا۔ دوسرامقالہ پروفیسرمولا بخش نے ’’رانی کیتکی کی کہانی افعال کی زبانی ‘‘ کے عنوان سے پڑھا۔ تیسرا مقالہ پروفیسر حبیب نثار نے ’’انشاء کی داستانیں‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد نسیم الدین نے کی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز