دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم انتہائی ضروری اور قابل تعریف اقدام : مولانا انیس احمد آزاد قاسمی

Oct 16, 2017 11:39 PM IST | Updated on: Oct 16, 2017 11:39 PM IST

بیدر : علم کا حاصل کرنا ہرمرد اورخواتین پر واجب قرارد دیا گیا ہے ۔ خواتین اگر تعلیم یافتہ ہوتی ہیں ، تو پورا ایک کنبہ اس کی تربیت سے فیضیاب ہوتا ہے اور خواتین بےعلم ہوتی ہیں ، تواس کا پورا کنبہ تاریکی کا شکار ہوجاتا ہے ۔ بیدر کے شاہین ایجوکیشن سوسائٹی میں شعبہ حفظ سے تکمیل کرنے والے حفاظ اورعالیمات کی دستار بندی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے علما نے یہ باتیں کہیں ۔

اس موقع پر مولانا انیس احمد آزاد قاسمی نے اپنےخطاب میں کہا کہ دنیا کی تمام کتابوں پرکتاب لکھنے والےمصنف کا نام ہوتا ہے ، تاہم قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے ، جس پر لکھنے والے مصنف کا نام موجود نہیں ہے ، بلکہ اس کتاب کے ہر لفظ میں کتاب لکھنے والے کی جانب اشارہ ہو رہا ہے ۔ مولانا نے کہا آج کے اس دورہ جدید میں دینی اورعصری علم دونوں کا حاصل کرنا بے انتہائی ضروری ہو گیا ہے ۔ شاہین ایجوکیشن سوسائٹی میں جو نظام بنایا گیا ہے، عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم اور دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم یہ قابل تعریف اقدام ہے ۔ ملک کے تمام دینی مدارس کو چاہئے کہ شاہین ایجوکیشن سوسائٹی سے رابطہ کرکے اپنے مدارس میں بھی دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا نظم کریں ۔

دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم انتہائی ضروری اور قابل تعریف اقدام : مولانا انیس احمد آزاد قاسمی

شاہین ایجوکیشن سوسائٹی کے سکریٹری الحاج ڈاکٹرعبدالقدیر نے کہا کہ عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کی ضرورت کو 50 سالوں سے محسوس کیا جاتا رہا ہے، مگر اب اس کا وقت آ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دارلعلوم دیوبند کا دورہ کیا ہے ۔ وہاں کی انتظامیہ بھی دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا آغاز کرنے کیلئے تیار ہے ۔ اسی طرح مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور خود مولانا انیس احمد آزاد قاسمی نے دہلی کے اپنے مدرسہ میں اسی طرح کی تعلیم کے آغاز کا اعلان کیا ہے ، جو ہماری نئی نسل کے لئے خوش آئند اقدام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دینی تعلیم کے مدارس میں 20 فیصدعصری تعلیم دینی چاہئے اورعصری تعلیم کے نصاب میں بیس فیصد دینی تعلیم ہونی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز