تین طلاق کی قباحت سے متعلق لوگوں میں مزید بیداری پیدا کرنے کی ضرورت : مولانا محمد الیاس ندوی

Apr 21, 2017 08:07 PM IST | Updated on: Apr 21, 2017 08:07 PM IST

بھٹکل : تین طلاق دینے والوں کے سماجی بائیکاٹ کی مسلم پر سنل لاء بورڈ کی اپیل پر الگ الگ رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ بھٹکل میں علماکا کہنا ہے کہ بورڈ کسی بھی قسم کے فیصلہ کو شرعی اور دستوری حدود میں رہ کر ہی کر ے گا ، اس لئے بائیکاٹ کے فیصلہ کے اچھے اثرات مرتب ہونے کی انہیں امید ہے ۔ ای ٹی وی کے ساتھ بات چیت میں بھٹکل کے علماکا کہنا تھا تین طلاق کی قباحت سے متعلق لوگوں میں مزید بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔

ملک بھر میں تین طلاق کا مسئلہ روز بروز شدت اختیارکرتا جا رہا ہے ۔ گزشتہ دنوں لکھنو میں منعقدہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ایک اہم میٹنگ میں ایک مجلس میں تین طلاق دینے والوں کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کے بعد اس معاملہ میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے ۔ علما مسلم پرسنل لاء بورڈ کے فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہیں ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کا بائیکاٹ شرعی اور دستوی حدود میں رہ کر ہی کیا جانا چاہئے ۔

تین طلاق کی قباحت سے متعلق لوگوں میں مزید بیداری پیدا کرنے کی ضرورت : مولانا محمد الیاس ندوی

دوسری جانب علما کا یہ بھی کہنا ہے کہ تین طلاق دینے سے طلاق واقع ہونے کا تصور بہت سے مسائل کی وجہ ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ طلاق کا صحیح طریقہ نہ جاننے سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ جانکاروں کا سوال ہے کہ مسلم عورتوں کے طلاق کے مسائل سے زیادہ دوسرے مذاہب میں پائے جانے والے جہیز ہراسانی کے معاملہ پر میڈیا کیوں بحث نہیں کر رہا ہے ۔ اگر عمومی طور پر عورتوں سے ہمدردی ہے ، تو پھر کسی خاص مذاہب کی عورتوں کے مسائل اجا گر کرنا اور ان سے ضرورت سے زیادہ ہمدردی دکھانا کیا کسی سازش کی وجہ سے ہے ؟۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز