مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کا غیرمسلموں کی غلط فہمیوں کے ازالہ پرزور، کہا :  نفرت کی آگ کومحبت کی شبنم سے بجھایا جائے

رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈمولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے مسلمانوں بالخصوص طلبہ پرزوردیاکہ وہ غیرمسلم بھائیوں کے ساتھ اچھے مراسم رکھ کر ان کی غلط فہمی کاخاتمہ کریں۔

Oct 18, 2017 07:38 PM IST | Updated on: Oct 18, 2017 07:38 PM IST

حیدرآباد: رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈمولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے مسلمانوں بالخصوص طلبہ پرزوردیاکہ وہ غیرمسلم بھائیوں کے ساتھ اچھے مراسم رکھ کر ان کی غلط فہمی کاخاتمہ کریں۔ مولاناخالدسیف اللہ رحمانی ’’سرسید21ویں صدی کے تناظرمیں‘‘ کے موضوع پر منعقدکردہ اجلاس کو مخاطب کررہے تھے۔ یہ اجلاس تلگویونیورسٹی کے آڈیٹوریم باغ عامہ حیدرآباد میں منعقدکیاگیا۔

مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے کہاکہ ہم نے برادران وطن سے تعلقات قائم کرنے کیلئے توجہ نہیں دی تھی، جس کے سبب بعض لوگوں کوملک کے عوام میں نفرت پیداکرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ہم کو اس نفرت کی آگ کومحبت کی شبنم سے بجھادیناچاہئے۔ انہوں نے طلبہ کومشورہ دیاکہ وہ عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم حاسل کرنے کیلئے توجہہ دیں۔

مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کا غیرمسلموں کی غلط فہمیوں کے ازالہ پرزور، کہا :  نفرت کی آگ کومحبت کی شبنم سے بجھایا جائے

منظرجمال صدیقی نے کہاکہ 700تا800سال تک مسلمان جو علم اورمعلومات کے شعبے میں آگے تھے، ہماری کوتاہیوں اورلاپرواہی اورقرآن کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کے سبب علم اورمعلومات یورپ اورامریکہ کے پاس چلی گئی ہے۔ انہوں نے طلبہ کومشورہ دیاکہ وہ عصری علوم کے ساتھ دینی علوم حاصل کریں۔ انہوں نے کہاکہ21ویں صدی جوعصری علوم کی صدی ہے، مسلمانوں کواس صدی میں عصری تعلیم کے شعبے میں توجہہ دیناچاہئے۔ انہوں نے سرسیداحمدخان کی جانب سے تعلیم کے فروغ کے لئے کی گئی خدمات کوخراج عقیدت پیش کیا۔

پروفیسرمحمودصدیقی نے کہاکہ ہمارے حالات چاہے کیسے ہی پریشان کن ہو، ہم کوہمت نہیں ہارنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ عام لوگ مستقبل کے تبدیلی ہونے کاانتظار کررہے ہیں، جبکہ خاص لوگ ہمت سے مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ ایسے خاص لوگوں میں سرسیداحمدخان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بعض لوگ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مسلم نام کی مخالفت کررہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز