اسدالدین اویسی کا روی شنکر پرساد کو جواب ، مسلمان ہندوستان میں اپنے حقوق حکومت کے رحم وکرم پر نہیں کر رہے ہیں حاصل

Apr 22, 2017 02:32 PM IST | Updated on: Apr 22, 2017 02:32 PM IST

حیدرآباد : حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کی جانب سے مسلمانوں کے ووٹ سے متعلق دیئے گئے بیان پر سخت برہمی ظاہر کی۔ انہوں نے حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت آئے گی اور چلی جائے گی۔آج ملک میں ان کی حکومت ہے اور کل کسی اور کی حکومت آئے گی ۔روی شنکر پرساد نے اپنے بیان میں لفظ ’’ہم ‘‘کااستعمال کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ تھا کہ’’ مسلمان بی جے پی کوووٹ نہیں دیتے لیکن ہم اسکے باوجودان کواہمیت دے رہے ہیں‘‘۔

صدر مجلس نے دوٹوک انداز میں کہاکہ یہ حق مسلمانوں کو دستور نے دیا ہے ۔حکومت نے نہیں دیا ہے۔صدر مجلس نے کہاکہ مسلمان اگر ہندوستان میں اپنے حقوق حاصل کر رہے ہیں تو حکومت کے رحم وکرم پر حاصل نہیں کر رہے ہیں۔حکومت دستوری طورپر مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کی مجاز ہے ۔حکومت کا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے جو دستوری حقوق ہیں ان پر عمل کیا جائے۔

اسدالدین اویسی کا روی شنکر پرساد کو جواب ، مسلمان ہندوستان میں اپنے حقوق حکومت کے رحم وکرم پر نہیں کر رہے ہیں حاصل

صدر مجلس نے روی شنکر پرساد سے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی آپ کو ووٹ نہیں دے گا تو آپ کیا کریں گے؟انہوں نے واضح کیا کہ یہی تو جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔یہاں ہندوستانی جمہوریت ہے نہ کہ صدام حسین یا پھر شمالی کوریا کی جمہوریت۔انہوں نے کہاکہ مسلمان بی جے پی کے خلاف ووٹ دیں گے اور دیتے رہیں گے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مسلمانوں کے دستوری حقوق چھین لیں ۔اس ملک کا دستور ہی برتر ہے ،اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ روی شنکر پرسادملک کے وزیر قانون ہیں ،وہ مسلمانوں کو دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کے معاملہ پر رام جنم بھومی ٹرسٹ کے رکن رام ولاس ویدانتی کے بیان کی بھی سخت مذمت کی۔ انہوں نے ویدانتی کو چیلنج کیا کہ وہ اگر وہ اپنے بیان پر قائم ہیں تو سی بی ائی کی عدالت میں اپنا اقبالی بیان دے کردکھائیں ۔وہ ایسا کیوں نہیں کرتے۔انہوں نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کی سازش کے الزام کے مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ کی ہدایت پر اندرون دو سال کی جائے گی۔ویدانتی کو 24سالوں سے اس سلسلہ میں عدالت میں بیان دینے سے کس نے روکا تھا؟انہیں چاہئے کہ اب سی بی آئی کی عدالت میں جا کر اپنا بیان قلمبند کروائے ۔ انہوں نے کہاکہ ویدانتی کا بیان ایک لطیفہ ہے۔24سال اس واقعہ کو گزر گئے لیکن اب ویدانتی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایسا کام کیا ہے۔

صدر مجلس نے کہاکہ وہ ویدانتی کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ سی بی آئی کی عدالت میں جاکر اپنا بیان ریکارڈ کروائے۔وہ جج کے سامنے کہہ دیں کہ انہوں نے ہی سازش کی ہے۔ان کی وجہ سے ہی تمام لوگوں نے مل کر مسجد کو شہید کرنے کاکام کیا ۔انہوں نے کہاکہ ویدانتی نے ایک ڈرامہ کیا ہے۔ویدانتی نے قانون کی حکمرانی اور عدالت کو مذاق سمجھ رکھا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ویدانتی عدالت کا سامنا نہیں کر نا چاہتے کیوں کہ وہ ڈر رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز