اسدالدین اویسی کا امت شاہ کو جواب ، حیدرآباد سیٹ جیتیں گے، کیا یہ خالہ اماں کا گھر ہے؟

May 26, 2017 01:43 PM IST | Updated on: May 26, 2017 01:43 PM IST

حیدرآباد: مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بی جے پی صدر امت شاہ حیدرآباد سیٹ پر جیت درج کرنے کے دعوی کا جواب دیتے ہوئے آج کہا کہ ایسا کرنا خالہ اماں کا گھر نہیں ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اویسی نے شاہ کو حیدرآباد سیٹ سے الیکشن لڑنے کا چیلنج بھی دیا۔ حیدرآباد سے ممبر پارلیمنٹ اویسی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ سکندرآباد لوک سبھا سیٹ اور شہر میں بھگوا پارٹی کی پانچ اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی کو شکست ملے۔

سکندرآباد لوک سبھا سیٹ سے مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ '' آپ (بی جے پی) حیدرآباد میں الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ... خوش آمدید ، لیکن آپ کسی دوسرے کو میدان میں کھڑا کرنے کا منصوبہ کیوں بنا رہے ہیں؟ آپ (شاہ) آئیے اور لڑئیے۔ '' خیال رہے کہ شاہ نے بیان دیا تھا کہ بی جے پی یہ سیٹ جیتے گی۔ حیدرآباد سے تین مرتبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے اویسی نے اس بیان کا ذکر کرتے ہوئے کل رات ایک جلسہ عام میں کہا کہ '' حیدرآباد کی نشست جیت جائیں گے .. کیا یہ خالہ اماں کا گھر ہے؟ ہم نے کئی سالوں تک یہاں کام کیا ہے۔

اسدالدین اویسی کا امت شاہ کو جواب ، حیدرآباد سیٹ جیتیں گے، کیا یہ خالہ اماں کا گھر ہے؟

گیٹی امیجیز

اویسی نے شاہ کے اس دعوی کو بھی مضحکہ خیز بتایا کہ بی جے پی سال 2019 اسمبلی انتخابات میں تلنگانہ میں حکومت بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ '' آپ خواب دیکھ رہے ہیں۔ شاہ کے تلنگانہ کے تین روزہ دورے پر اویسی نے کہا کہ '' بی جے پی صدر تلنگانہ کے دورے پر ہیں ... تلنگانہ کیلئے اچانک محبت امنڈ پڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاہ نالگوڈا گئے اور ایک دلت کے گھر میں کھانا کھایا، اس کے بارے میں وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ یہ کھانا ایک اعلی ذات کمیونٹی کے رکن نے بنایا تھا۔ اویسی نے کہا کہ '' آپ (شاہ) کی محبت کیسی ہے؟ آپ نے دلتوں کے گھروں پر کھانا کھایا ، جسے کسی دوسرے نے تیار کیا تھا۔

انہوں نے شاہ کے اس دعوی کو بھی مسترد کردیا کہ مرکز نے تلنگانہ کو ایک لاکھ کروڑ روپے مختص کئے۔ اویسي نے کہا کہ '' ٹھیک ہے، اگر آپ نے (ایک لاکھ کروڑ روپے) دیے تو کیا آپ نے یہ اپنی جیب سے دیئے، ہم بھکاری نہیں ہیں ... یہ (مرکزی فنڈ) پانا ہمارا (تلنگانہ کا) آئینی حق ہے۔ تلنگانہ حکومت کا حق ہے کہ اسے ایک لاکھ کروڑ نہیں بلکہ 10 لاکھ کروڑ روپے دیے جائیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز