گریجویشن کی سطح پر بیک پیپر والے مسلم طلبہ کو پوسٹ میٹرک اسکالر شپ سے کیا جا رہا ہے محروم

Jan 27, 2017 07:49 PM IST | Updated on: Jan 27, 2017 07:49 PM IST

گلبرگہ : کرناٹک کےاقلیتی طلبہ کےساتھ ایک مرتبہ پھر امتیازی وسوتیلا سلوک کرنےکی خبرسامنےآئی ہے۔ بیچلرآف انجینئرنگ میں زیرتعلیم اکثراقلیتی طلبہ کی پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کو ریاستی سطح پرنامنظورکیا جا رہا ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہےکہ گزشتہ سال جنہوں نے بیک پیپر دئے ہیں ، وہ اسکا لرشپ کیلئے اہل نہیں ہیں ۔طلبہ کا کہنا ہے کہ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طلبہ کو بیک پیپر دینے پر بھی اسکالرشپ مل رہی ہے ، مگر ہمیں اس سے محروم کیا جارہا ہے۔

کرناٹک میں جواقلیتی نوجوان بیچلرآف انجینئرنگ کےمختلف سمسٹرس میں زیرتعلیم ہیں ، ان طلبہ میں سے کچھ نےگزشتہ سال بیک پیپرس دئے ، مگر قانون کے مطابق یہ ریگولر طالب علم ہیں ۔اب یہ طلبہ اپنی سالانہ پچاس ہزارروپے کی فیس کے لیے فکر مند ہیں ۔ کالج انتظامیہ انھیں سالانہ فیس بھرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، لیکن ان کے یا ان کے والدین کے پاس فیس کیلئے رقم نہیں ہے۔

گریجویشن کی سطح پر بیک پیپر والے مسلم طلبہ کو پوسٹ میٹرک اسکالر شپ سے کیا جا رہا ہے محروم

طلبہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی پوسٹ میٹرک اسکا لرشپ کے بھروسے پران کےغریب والدین نےانھیں انجینئرنگ میں داخلہ کرایا تھا، لیکن ریاستی سطح پر ان کی اسکالرشپ کو نامنظور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقلیتی طلبہ حکومت کےقوانین پر سوال اٹھا رہے ہیں ۔ دوسری جانب ان طلبہ کےساتھ ناانصافیو ں کےتعلق سے وزارت اقلیتی بہبود حکومت کرناٹک کے اعلیٰ عہدیدار لاعلم ہیں۔ تاہم معاملے کے حل کی یقین دہانی بھی کرا رہے ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز