بنگلورو کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں دو ہزار روپئے کے نوٹ میں ناقص پرنٹنگ کا انکشاف

Jan 11, 2017 12:02 PM IST | Updated on: Jan 11, 2017 12:02 PM IST

بنگلورو۔ مرکزی حکومت کی طرف سے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹ چلن سے باہر کر دئے جانے کے بعد لوگ  بینکوں اور  اے ٹی ایم مشینوں سے دو ہزار روپئے کے نوٹ حاصل کر رہے ہیں ـ جہاں ایک طرف، ان نوٹوں کو چلانے کے لیے عام لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، وہیں  بنگلورو کے بیرونی علاقے آنیکل میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں  دو ہزار روپئے کے نوٹوں میں خرابی پائی گئی ہے ـ ادھورے پرنٹ کئے گئے نوٹ صارفین کو فراہم کیے جارہے ہیں جس کے سبب لوگ دو ہزار روپئے  کے نوٹ حاصل کرنے سے کترا رہے ہیں ـ صارفین کا کہنا ہے کہ ادھورے پرنٹ والے دو ہزار روپئے کے نوٹ واپس دینے کےلیے جب وہ بینک گئے تو بینک منیجر نے یہ نوٹ لینے سے انکار کردیا۔ لوگوں نے جب شدید برہمی کا اظہار کیا تو منیجر کو نوٹ واپس لے کر دوسرا نوٹ دینا پڑا ـ

اس بینک میں کھاتہ دار  سمپنگی نے بتایا کہ انہوں نے بینک سے 24 ہزار روپئے نکلوائے۔ جب یہ  رقم انہوں نے کسی دوسرے  شخص کو دی تو پتہ چلا کہ دو ہزار کا ایک نوٹ استعمال کے قابل نہیں ہے ـ جب بینک منیجر کو اس کی اطلاع دی گئی تو منیجر نے نوٹ واپس لینے سے انکار کردیا اور آر بی آئی سے نوٹ بدلنے کا مشورہ دیا، لیکن سخت احتجاج کے بعد اس نے بالآخر نوٹ لے لیا ـ

بنگلورو کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں دو ہزار روپئے کے نوٹ میں ناقص پرنٹنگ کا انکشاف

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز