غریب مسلم لڑکیوں کی معمر عرب شہریوں سے شادی کی روک تھام کیلئے اب مودی حکومت بھی حرکت میں

حکومت تلنگانہ کے بعد اب مرکزی حکومت بھی غریب مسلم لڑکیوں کی عرب شہریوں کے ساتھ شادیوں کو روکنےکے لئے اپنی کوشش کا آغاز کردیا ہے۔

Oct 17, 2017 09:33 PM IST | Updated on: Oct 17, 2017 09:33 PM IST

حیدرآباد: حکومت تلنگانہ کے بعد اب مرکزی حکومت بھی غریب مسلم لڑکیوں کی عرب شہریوں کے ساتھ شادیوں کو روکنےکے لئے اپنی کوشش کا آغاز کردیا ہے۔ وزیر اعظم دفتر نے اس سلسلہ میں نیشنل کمیشن فار وومن کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ وہیں حکومت تلنگانہ نے بھی ہائی کورٹ کی ہدایت پر عرب شہریوں کے ساتھ نا با لغ مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے بڑھتے واقعات کے بعد اس کی روک تھام کے لئے ایک بل کا مسودہ تیار کیا ہے ۔ توقع ہے کہ اس بل کو اسمبلی کے سرمائی سیشن میں پیش کیا جائے گا ۔

نیشنل کمیشن فار وومن کے رکن آلوک راوت ان دنوں ضعیف عرب شہریوں کی حیدرآباد کے نا بالغ لڑکیوں سے شادیوں کے واقعات پر تحقیقی رپورٹ تیارکرنے حیدرآباد آئے ہوئے ہیں ۔ الوک راوت نے تلنگانہ اسٹیٹ کمیشن فار وومن ڈاکٹر تری پترا وینکٹ رامن کے ساتھ مل کر گزشتہ دو دنوں سےعرب شہریوں سے شادی کی متاثرہ لڑکیوں ، ان کے اہل خاندان اورغیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں اور محکمہ پولیس کے افسران سے ملاقات کی اور ان کا بیان ریکارڈ کیا ۔

غریب مسلم لڑکیوں کی معمر عرب شہریوں سے شادی کی روک تھام کیلئے اب مودی حکومت بھی حرکت میں

خیال رہے کہ حیدرآباد ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مسلم لڑکیوں کی عرب شہریوں سے شادیوں پر 30 اکٹوبر تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز