حیدرآباد میں پرانے اور نادر ریڈیو کی مرمت کیلئے معین الدین ہیں کافی مشہور، ملک بھر سےلوگ پہنچے ہیں محبوب ریڈیو

Jul 16, 2017 07:00 PM IST | Updated on: Jul 16, 2017 07:50 PM IST

حیدرآباد: روز مرہ کی دوڑ دھوپ والی زندگی ،سڑکوں پر گاڑیوں کی سرپٹ آوازوں سے بے نیاز محمد معین الدین اپنی دکان میں پرانے دور کے کئی نادرونایاب ریڈیو سیٹ کی مرمت کا کام کرتے ہیں ۔ وہ بظاہرایک عام سے انسان نظر آتے ہیں لیکن ان کا ہنر انہیں دوسروں میں انفرادیت بخشتا ہے ۔ان کی اسی ہنرمندی اور کام نے ان کو ایک ممتازحیثیت عطا کی ہے اور وہ قدیم و نادر ریڈیو کے شائقین کے لئے ایک غیر معمولی شخصیت بن گئے ہیں۔

پرانا شہر حیدرآبادکے چھتہ بازار علاقہ کی محبوب ریڈیو جانی پہچانی دکان ہے۔1960کا ریڈیو ہو یا پھراس سے پرانے دور کا،ٹیپ ریکارڈر، ان کی دکان پُرانے اور نادر طرز کے ریڈیو،ٹیپ ریکارڈرس، کیسٹس پلیرس اورٹی وی سیٹس سے بھری پڑی ہے۔ چھتہ بازار علاقہ کی سڑک پر شادی کارڈ کی چھپائی کی دکانوں سے گزرنے وقت ان کی چھوٹی سی دکان نظر آئے گی جو اب کافی مشہور ہوچکی ہے ۔اس دکان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ایسے ایسے ریڈیو سیٹ کی مرمت کا کام کیا جاتا ہے جو بالکل بیکار یا نایاب ہوچکے ہیں ۔ انہیں درست کرنا ایک فنکارانہ مہارت ہے۔

حیدرآباد میں پرانے اور نادر ریڈیو کی مرمت کیلئے معین الدین ہیں کافی مشہور، ملک بھر سےلوگ پہنچے ہیں محبوب ریڈیو

یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں جیسے ممبئی ، کولکاتہ سے پرانے ریڈیو مرمت کے لئے یہاں بھیجے جاتے ہیں۔ ہزاروں ریڈیو سیٹ کی مرمت بعد بہتر حالت میں تک پہنچانے والے محمد معین الدین کہتے ہیں کہ ان کے پاس متحدہ آندھراپردیش کے سابق وزیراعلی مری چناریڈی کا گروڈنگ اسپول ریکارڈراور ایچ ایم وی کاریکارڈ پلیر بھی مرمت کے لئے آیا ہوا ہے جسے وہ ٹھیک کر رہے ہیں۔ انہوں نے یواین آئی سے خصوصی ملاقات میں کہاکہ ممبئی ،کولکتہ کے علاوہ دبئی ،سعودی عرب اور امریکہ سے بھی ان کے پاس ریڈیو مرمت کے لئے لائے جاتے ہیں اور وہ کامیابی سے ان کی مرمت کردیتے ہیں۔

محمد معین الدین اور ان کے بھائی مجیب الدین پرانے ریڈیو ، ٹیپ ریکارڈز اور ٹی وی بنانے کے ماہر ہیں۔ان کے پاس مرمت کے لئے آنے والے ریڈیو کے پینلوں پر ان کے علاقوں کے نام جیسے اسکندریہ،پشاور،ڈھاکہ،کلکتہ اورتہران بھی تحریر ہے جبکہ بعض ریڈیو پر وینزولا،اسرائیل اور کیوبا نشان زدہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ان کی دوکان پر نہ صرف ریڈیو فروخت کے ساتھ ان کی مرمت کا کام انجام دیا جاتا تھااور ریڈیو کے پرزے حاصل کرکے نیاریڈیو بھی تیار کیاجاتا تھا۔

انہوں نے کہاکہ ان کے پاس برطانیہ کا جانسن کمپنی کا ریڈیو بھی ہے جو تقریباً 80سال پرانا ہے۔اسپول ٹیپ ریکارڈربھی ہے جو آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو سیلون میں ہنوز استعمال کیا جاتا ہے۔جی ای سی ریڈیو جو بیٹری سے چلایاجاتا ہے اس کی بھی انہوں نے مرمت کی ہے۔پرانے طرز کے ریڈیو سے ان کی دکان بھری پڑی ہے ۔ ریڈیوں سننے کے شوقین حضرات ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈز کی مرمت کے لئے ان کی ہی دکان کارخ کرتے ہیں ۔ان کے لئے محمد معین الدین ایک غیر معمولی شخص ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ریڈیو کا پُرانا دور پھر سے واپس آگیا ہے کیونکہ لوگ اب نہ صرف ریڈیو سن رہے ہیں بلکہ دور قدیم کے نادر ریڈیو کی مرمت کرواکر ان کو اپنے بزرگوں کی یادگار کے طور پراپنے دیوان خانوں کی زینت بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب اس دور میں حیدرآباد میں بجلی ہر گھر میں نہیں ہواکرتی تھی تو اُس دور میں ڈرائی بیٹریز سے چلنے والے ریڈیو کافی مقبول تھے ۔پچھلے دور میں ریڈیو تین حصوں امپلی فائر ،اینٹینا اوراسپیکرس پر مشتمل ہوا کرتا تھااور ٹیوننگ سنگل بینڈ سے ہی ہواکرتی تھی۔گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ آج کل ایف ایم ریڈیو کا دور ہے اور پچھلے دور کے ریڈیو میں بھی اب تھوڑی سے مرمت کے بعد ایف ایم کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پرانے زمانہ میں ریڈیو رکھنا شان کی علامت تصورکیاجاتا تھا کیونکہ ریڈیو ہر کسی کے پاس نہیں ہوا کرتا تھا اور صرف صاحب ثروت افراد ہی اس کے متحمل ہواکرتے تھے جس کے لئے اینٹینا لگائے جاتے تھے ۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ریڈیو رکھنے والے کو لازمی طورپر لائسنس رکھنا پڑتا تھا اور لائسنس نہ رکھنے یا پھر لائسنس کی فیس ادا نہ کرنے پر ریڈیو کو ضبط کرلیا جاتا تھا۔گھرکے ریڈیو کی لائسنس فیس 15روپئے اور تجارتی لائسنس کی فیس50روپئے ہواکرتی تھی۔

انہوں نے کہاکہ 1985میں حکومت نے ریڈیو کو لائسنس سے مستثنی کردیا تھا کیونکہ حکومت کا ماننا تھا کہ عام آدمی کو تفریح کے لئے لائسنس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ پرانے دور میں اگر کسی کے پاس ریڈیو ہوتا تو لوگ خبریں سننے کے لئے اس کے پاس جمع ہوجاتے تھے۔ اب ریڈیوکی مرمت کے لئے پرزے مل تو جاتے ہیں لیکن وہ کافی مہنگے ہوگئے ہیں۔ ایک ایسے وقت جب ٹکنالوجی بالکل بدل چکی ہے اورسوشل میڈیا بالخصوص واٹس اپ کے ذریعہ خبروں کی ترسیل ہورہی ہے اس کے باوجود آج کے دور میں بھی، بھلے ہی دوسری صورت میں ، ریڈیو اپنا اعلی مقام برقرار رکھے ہوئے ہے اور لوگوں کو اپنی جانب راغب کر رہا ہے ۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور کے باوجود ضعیف افراد کی اکثریت ایسی ہے جو آج بھی ریڈیو سے جڑی ہوئی ہے ۔یہ افراد صرف ریڈیو پر ہی خبریں سننے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ چاہے کرکٹ کمنٹری ہویا خبریں ، ان کا مشغلہ وہی پرانا ریڈیو ہے جسے ان کا ایک بہتر ساتھی بھی کہا جاسکتا ہے اور اگر کسی وجہ سے ان کے ریڈیو میں خرابی آجاتی ہے تو پھر محمد معین الدین ان کے لئے کافی اہم ثابت ہوجاتے ہیں۔دنیا میں کافی ترقی ہونے کے باوجود ریڈیو کی حیثیت آج بھی برقرار ہے اور ریڈیو کے ذریعہ وزیراعظم اپنے من کی بات لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ من کی بات سے کئی لوگ ریڈیو سے دوبارہ جُڑ گئے ہیں۔ ہندوستا ن میں موبائل فون عام ہونے کے باوجود شہری علاقوں سے کہیں زیادہ دیہی علاقوں کے لوگ آج بھی ریڈیو پر انحصار کرتے ہیں اور ریڈیو کے پروگراموں سے لطف اندوز ہونا ہی ان کا محبوب مشغلہ ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز