کرناٹک کے امیرشریعت محمد مفتی اشرف علی کا انتقال پرملال، دارالعلوم سبیل الرشاد میں تدفین

Sep 09, 2017 06:16 PM IST | Updated on: Sep 09, 2017 06:17 PM IST

بنگلورو۔ ریاست کرناٹک کے امیرشریعت محمد مفتی اشرف علی کی آج تدفین عمل میں آئی۔ بنگلورو کے دارالعلوم سبیل الرشاد میں آہ وبکا میں ڈوبا لوگوں کا جم غفیر، کئی اہم شخصیات کی موجودگی، پورے سرکاری اعزاز کےساتھ مفتی اشرف علی کو سپرد لحد کیا گیا ۔ گھٹے گر تو بس ایک مشت غبار ہے انسان ۔ بڑھےگرتو وسعت کونین میں سما نہ سکے‘ ۔  صاحب علم وحکمت ، قول وعمل کے پکے پیکرانسانیت  مولانا مفتی محمد اشرف علی کی نمازہ جنازہ کا یہ منظرہرکسی کو نمدیدہ، رنجیدہ، غمزدہ کرتا ہوا گزرا ۔  بنگلورو کے دارالعلوم سبیل الرشاد کے احاطہ میں لوگوں کا ہجوم امنڈ پڑا۔ علما کرام، دینی مدارس کےطلبا ، ملی ، سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد یہاں موجود رہی۔ نمازہ جنازہ سے قبل مولانا کی جسد خاکی کو پولیس نے ریاستی اعزاز پیش کیا۔ تین مرتبہ ہوا میں گولیاں چلا کر پولیس نے گارڈ آف آنر دیا۔ اس کے بعد مولانا کی نمازہ جنازہ ان کے فرزند مولانا احمد سمال رشادی نے پڑھائی ۔ سبیل الرشاد کے احاطے میں ہی مفتی محمد اشرف علی کی تدفین عمل میں آئی۔ اس موقع پر تعزیتی اجلاس بھی منعقد ہوا۔ تمام مکتب فکراورمسلکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع  پر مرکزی وزیرڈی وی سدا نندگوڈا، ریاستی وزرا روشن بیگ، تنویرسیٹھ اور دیگر لیڈروں نے گہرے دکھ اور درد کا اظہارکرتے ہوئے انکی رحلت کوملک اورملت کے لئے بڑا نقصان قراردیا۔

محمد مفتی اشرف علی اپنے آخری آیام میں بھی دینی ،ملی، سماجی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ گزشتہ ماہ بقرعید کے پیش نظرقربانی کے مسئلہ کے سلسلے میں وزیراعلی سے ملاقات کی۔  پندرہ اگست کے موقع پر اپنے مدرسہ میں ہی منعقدہ یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کیا۔ ملی اتحاد اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوششوں میں سرگرم رہنے والی نمائندہ شخصیت کےانتقال کے بعد ایک خلا کا پیدا ہونا ظاہرسی بات ہے۔ مولانا مفتی اشرف علی کا بنگلورو میں جمعرات کی رات  تقریباً 2.30 بجے دل کا دورہ پڑنے سے  انتقال ہوگیا  ـ بنگلورو کے دارالعلوم سبیل الرشاد میں موجود اپنی رہائش گاہ میں مفتی اشرف علی نے آخری سانس لی ـ 80 سالہ مفتی اشرف علی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مجلس عاملہ کے رکن اور آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر تھے ـ ساتھ ہی رابطہ ادب اسلامی، اس طرح کئی ملی،سماجی تنظیموں سےوابستہ تھے۔  ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی مسلمانان کرناٹک میں رنج و الم کی لہر دوڑ گئی ـ

کرناٹک کے امیرشریعت محمد مفتی اشرف علی کا انتقال پرملال، دارالعلوم سبیل الرشاد میں تدفین

مولانا کی نمازہ جنازہ ان کے فرزند مولانا احمد سمال رشادی نے پڑھائی ۔

مفتی اشرف علی جنوبی ہند کی  مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کے مہتمم تھے ـ  آٓپ کی سرپرستی میں کئی دینی مدارس قائم ہوئے ہیں ـ دارالعلوم سبیل الرشاد سے فارغ رشادی علما دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ـ  مولانا ابوسعود کے فرزند مفتی اشرف علی کے پسماندگان میں اہلیہ، 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں ـ مفتی محمد اشرف علی نے اپنے والد مولانا ابو سعود کے نقش قدم پرچلتے ہوئے دینی تعلیم کی ترویج واشاعت کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ دینی، علمی، ادبی خدمات کے ساتھ آپ نے ملت کی رہنمائی، رہبری کا بھی فریضہ انجام دیا۔ نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں کے لئے جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تودارالعلوم سبیل میں اجلاس، نشستیں منعقد ہوتیں۔

محمد مفتی اشرف علی: فائل فوٹو۔ محمد مفتی اشرف علی: فائل فوٹو۔

وزیراعلی سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں کے نمائندے اکثر وبیشتر آپ کے یہاں آیا کرتے۔ مفتی محمد اشرف علی دینی تعلیم کے ساتھ اردو زبان وادب کےفروغ کے لئے بھی کوشاں رہتے۔ کرناٹک اردو اکیڈمی نے آپکی مجموعی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئےسالانہ ایوارڈ سے تفویض کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز