کرناٹک کے رائچور کے بعض علاقوں میں صفائی و ستھرائی کے ناقص انتظامات

کرناٹک کے رائچور شہر کے بعض علاقوں میں جگہ جگہ کچرے کے انبار اور صاف صفائی کے ناقص انتظامات سے لوگ پریشان ہیں ۔

Nov 07, 2017 05:52 PM IST | Updated on: Nov 07, 2017 05:52 PM IST

رائچور۔ ملک بھر میں زور وشور سے سوچھ بھارت پروگرام جاری ہے ۔ سوچھ بھارت پروگرام کےآغاز کے بعد لوگوں میں صاف صفائی کے تعلق سے شعور بیدار ہوا ہے ۔ لیکن کرناٹک کے رائچور شہر کے بعض علاقوں میں جگہ جگہ کچرے کے انبار اور صاف صفائی کے ناقص انتظامات سے لوگ پریشان ہیں ۔ شہر کی ایک تاریخی مسجد اوردرگاہ کے اطراف واکناف صاف صفائی کے ناقص انتظامات ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رائچور شہر میں کئی مساجد، درگاہیں اورعاشور خانے ایسے ہیں جو کہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ۔ متعلقہ حکام اس جانب توجہ نہ دیں تو ان تاریخی عمارتوں کی عظمت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔

مرکزی حکومت کے سوچھ بھارت پروگرام سے ہندوستان میں جگہ جگہ تبدیلی دیکھی جارہی ہے ۔ حکومتیں صاف صفائی کے لیے کروڑوں روپئے خرچ کر رہی ہیں ۔ کرناٹک کے رائچور میں بھی مقامی بلدیہ اور سماجی تنظیموں کی جانب سے سوچھ بھارت پروگرام چلایا جا رہا ہے لیکن موثرعمل آوری کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اسی طرح کی صورتحال شہر کی تاریخی وقدیم مسجد ہارون اور اور اسکے احاطے میں واقع درگاہ حضرت سید شاہ کریم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ کی ہے ۔ درگاہ حضرت سید شاہ کریم الدین شہید کا شمار شہر کے معروف آستانوں میں کیا جاتا ہے ۔ جہاں پر بلا لحاظ مذہب وملت لوگ حاضری دیتے ہیں ۔ لیکن درگاہ شریف کا باب الداخلہ عہدیداروں اور مقامی عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کچرے کی جگہ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ کچرے کی وجہ سے درگاہ شریف کی گلی جانوروں کا باڑا بن گیا ہے ۔ اس کے علاوہ مسجد ہارون کے باب الداخلہ اور باؤنڈری وال کی بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال ہے ۔ اسی طر ح متعلقہ محکموں کی لاپرواہی سے مسجد کا تاریخی باب الداخلہ ،دیوار اور مسجد کی قدیم عمارت خستہ حالی کا شکار ہے ۔کچرے اور ڈرینیج سے اٹھنے والی بدبو سے مصلیوں اور زائرین کو دشواری ہو رہی ہے ۔ مقامی لوگ جلد سے جلد سے صاف صفائی کے انتظامات کرنے اور تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے خصوصی اقدمات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

کرناٹک کے رائچور کے بعض علاقوں میں صفائی و ستھرائی کے ناقص انتظامات

ری کمنڈیڈ اسٹوریز