مسلم ممالک کے ساتھ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا دانشوروں نے کیا خیرمقدم

May 20, 2017 08:23 PM IST | Updated on: May 20, 2017 08:23 PM IST

گلبرگہ : وزیراعظم مودی جولائی میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی کے دورہ اسرائیل کے دوران بی جے پی کے اہم عہدیدار بھی ساتھ ہوں گے۔ مودی کا دورہ اسرائیل کسی بھی ہندوستانی وزیراعظم کا پہلا دورہ ہوگا۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کے دورہ اسرائیل سے قبل زمین ہموار کرنے کیلئے اسلامی ممالک کے سربراہان کو ہندوستان مدعو کیا گیا ۔ اس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ہندوستان اپنی خارجہ پالیسی میں مسلم ممالک کو خاص مقام دے رہا ہے۔ وہیں کچھ ماہرین مسلمانوں کے تئیں حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسی کو متضاد قرار دے رہے ہیں ۔

دانشوروں کا کہنا ہے کہ مختلف مسلم ممالک کے سربراہان کے ہندوستان کے دوروں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان مسلم ممالک کے لئے کتنا اہم ہے اور ہندوستان کے لئے مسلم ممالک کتنے اہم ہیں۔ دراصل ہندوستان سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے اور مسلم ممالک سے اپنے دعوی کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مسلم ممالک کے ساتھ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا دانشوروں نے کیا خیرمقدم

مرکزی حکومت نےاس مرتبہ یوم جمہوریہ تقریب کے مہمان خصوصی کے طور پرمتحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید النہیان کو مدعو کیا تھا۔ پھر اس کے بعد ملیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق، بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ ، ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے اور اب فلسطینی صدر محمود عباس کا دورہ ہند مکمل ہوا۔ رواں سال کے ان پانچ ماہ کے دوران پانچ اہم مسلم ممالک کے سربراہان نے ہندوستان کا دورہ کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک اور ہندوستان کے درمیان صدیوں سے تعلقات رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی آبادی کے حساب سے ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس تناظر میں بھی اسلامی ممالک اور ہندوستان ایک دوسرے کی جانب راغب ہیں۔اسلامی ممالک کی جانب ہندوستان کے جھکاؤ کو بعض ماہرین شک کی نظر سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے تئیں حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسی کو ماہرین متضاد قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز