پولیس ایکشن کو قیامت صغریٰ کے طور پرگلبرگہ کے لوگ کرتے ہیں یاد ، آج بھی کھڑے ہوجاتے ہیں رونگٹے

Sep 18, 2017 10:47 PM IST | Updated on: Sep 18, 2017 10:48 PM IST

گلبرگہ :تحریک مسلم شبان کے زیراہتمام پولیس ایکشن کی برسی کے موقع پر سیمینار بعنوان ’’ پولیس ایکشن 1948 کیا ضروری تھا ‘‘ کا انعقاد مشتاق ملک کی صدارت میں عمل میں آیا ۔ سیمینارسے مہمان خصوصی ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے کہا کہ دکن میں پولیس ایکشن کی برسی کو یوم شہدا کی شکل میں منانا چاہیے۔ 1956 میں لسانی بنیادوں پر تقسیم تک شمالی کرناٹک کا حصہ بیدر، گلبرگہ اور رائچور ریاست حیدرآباد کا ہی حصہ تھے۔ اس حصے کو حیدرآباد کرناٹک کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے اعتراضات کے باوجود حکومت کرناٹک17 ستمبر کو انضمام حیدرآباد کے دن کو یوم نجات کے طور پر مناتی ہے ۔

سقوط حیدرآباد کے دوران متاثرہ علاقوں میں ضلع گلبرگہ کا نام بھی نمایاں ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق رضاکاروں کے خلاف کارروائی کے بہانے شر پسندوں نے گلبرگہ و طراف میں وحشیانہ کارروائیاں کیں، جس میں گلبرگہ میں واطراف میں کم از کم تین لاکھ مسلمانوں کا قتل کیا گیا اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ رب کا اڈہ محلہ کی باولی میں ہزاروں خواتین نے کود کر جان دی ۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کی کروڑوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

پولیس ایکشن کو قیامت صغریٰ کے طور پرگلبرگہ کے لوگ کرتے ہیں یاد ، آج بھی کھڑے ہوجاتے ہیں رونگٹے

پولیس ایکشن کا نام سنتے ہی گلبرگہ کے سن رسیدہ افراد کے رونگٹے آج بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ70 سال قبل کا منظر دکن کے مسلمانوں کے لئے قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس ایکشن کے دوران گلبرگہ میں بہمنی پورہ، مخدوم پورہ، ائیر واڑی، لوہار گلی، غازی پورہ، عطار کمپائونڈ، قلعہ حشام، شاہ بازار کا منظر دلخراش تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس ایکشن کے دوران شر پسندوں نے مسلمانوں کا صرف جانی نقصان ہی نہیں کیا، بلکہ مسلمانوں کی اقتصادیات کو بھی پوری طرح سے برباد کر دیا تھا ۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ مستقر گلبرگہ میں جتنا نقصان ہوا تھا، اس سے کہیں زیادہ گلبرگہ کے اطراف و اکناف میں ہوا تھا۔ تعلقہ شاہ پور کا موضع سگر میں کو کربلا ثانی کا بھی نام دیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز