بیت المقدس معاملہ پر ساری دنیا کی خاموشی حیرت انگیز: اسد الدین اویسی

حیدرآباد۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین ورکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کی شدید مذمت کی ۔

Dec 09, 2017 08:27 PM IST | Updated on: Dec 09, 2017 08:27 PM IST

حیدرآباد۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین ورکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے اس اعلان سے سارے عالم اسلام کے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ہے کیونکہ یہ ہمارا قبلہ اول ہے اور حضور اکرم ﷺنے 17ماہ تک صحابہ کرام کے ساتھ اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے کئے گئے اعلان کے ذریعہ بیت المقدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرلینے سے ہمارے جذبات سرد نہیں ہوں گے ۔ہم اپنے سینوں میں ایمانی حرارت رکھتے ہیں تاہم ٹرمپ کے اعلان کے باوجود ساری دنیا کی خاموشی معنی خیز ہے۔

صدر مجلس نے کل شب تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جلسہ تحفظ شریعت و اصلاح معاشرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل بیت المقدس کے بارے میں نہیں جانتی۔ یہ زمین کا ایک محض ٹکڑا نہیں ۔یہ عرب اورعجم کا مسئلہ نہیں ہے ۔مسلمانوں کی زندگی میں بیت المقدس کی خاص اہمیت ہے ۔

بیت المقدس معاملہ پر ساری دنیا کی خاموشی حیرت انگیز: اسد الدین اویسی

اسدالدین اویسی: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز

صدر مجلس نے کہا کہ آج ہم شیعہ ، سنی ، اہل حدیث میلاد منانے یا نہ منانے پر لڑرہے ہیں جبکہ ہمارے ہاتھوں سے بیت المقدس نکلتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج دنیا چاہتی ہے کہ ہمارے جذبات کو ختم کردیا جائے ۔جس دن ہمارے جذبات ختم ہوں گے ۔ہم کچھ نہیں کرسکیں گے اور شریعت کیلئے بھی کچھ نہیں کرپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس حضرت فاروق اعظمؓ کے دور میں آزاد ہوا ۔ پھر حضرت صلاح الدین ایوبی کے دور میں اس کو فتح کیا گیا لیکن ہماری لاپرواہی کی وجہ سے یہ دوبارہ یہودیوں کے قبضہ میں چلا گیا ۔ آج بیت المقدس پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کو آباد کرنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے لئے ہم تڑپ رکھتے ہیں ،بیت المقدس ، شیعہ ، سنی ،بریلوی ،دیوبندی ،اہل حدیث کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے ۔ اس کے لئے عالم اسلام جدوجہد نہیں کرے گا تو ہمارے ساتھ ایسی ہی سازشیں کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ آج قبلہ اول ہمارے ہاتھ سے چلاجارہا ہے ۔کیا ہم جذبات سے جہاد کریں گے؟آج سرزمین بیت المقدس پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ عالم اسلام ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انہیں رجب طیب اردگان سے امید ہے ۔ اگر وہ اس مسئلہ پر اٹھیں گے تو کچھ ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ روز قیامت ہم سے یہ سوال کیاجائے گا کہ ہم نے بیت المقدس کے لئے کیا کیا؟اس وقت ہم کیاجواب دیں گے۔

رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے بازیابی بیت المقدس کے لئے جیالے فلسطینیوں کے عزائم کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ اس کاز کے لئے دنیا نے ان فلسطینیوں کا ساتھ چھوڑ دیا لیکن وہ برابر لڑرہے ہیں۔ ان فلسطینیوں نے اپنے لاکھوں معصوم بچوں کو قربان کردیا لیکن ان کی لڑائی ہنوز جاری ہے۔ آج اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی میں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روکنے کی کافی کوششیں کی جاتی ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ادائیگی نماز کے لئے وہاں جاتے ہیں لیکن ہم کو نماز کی کوئی فکر نہیں ہے۔ آج مسجد اقصی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس کو بچانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ ہم وہاں نہیں جاسکتے لیکن ہم ہمارے جذبات کے ذریعہ جہاد کر سکتے ہیں۔ہم دور ضرور ہیں لیکن ہمارے جذبات کو زندہ رکھنا ضرور ی ہے۔ہم ٹرمپ کے فیصلہ کو غلط مانتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ہمیں مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قبلہ اول کی بازیابی کے لئے دعائیں کرنی چاہئے ۔ صدر مجلس نے مشورہ دیا کہ آپسی اختلافات کو ختم کردیاجائے ۔بیت المقدس کے لئے اختلافات کا خاتمہ ضروری ہے۔

صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے راجستھان میں لوجہاد کے نام پر ایک غریب مزدور کے بہیمانہ قتل اور اس کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس درندہ صفت شخص نے اپنی اس حرکت کے ذریعہ قانون کی حکمرانی اور گنگا جمنی تہذیب کاخاتمہ کردیا۔ ویڈیو میں افراز کو نشانہ بنانے والا یہ کہہ رہا تھا کہ وہ لو جہاد کر رہا تھا جبکہ اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ وہ اس کی بیٹی کی شادی کے لئے آرہا تھا ۔ مسٹر اویسی نے کہا کہ لوجہاد کے نام پر مسلمانوں کو مارا جارہا ہے ۔اخلاق ، بہلو خان،حافظ جنید کا خاتمہ کیا گیا۔ جنید کو چلتی ٹرین سے دھکیل دیا گیا ۔عمر محمد کو راجستھان میں گولی مارکر چلتی ٹرین سے گرادیاجاتا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز