ایک نرم ہندوتوا ہے تو دوسرا سخت ہندوتوا، یہ دونوں ہی ہندوتوا غلط ہیں: اسد الدین اویسی

Apr 01, 2017 06:01 PM IST | Updated on: Apr 01, 2017 06:01 PM IST

حیدرآباد۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اترپردیش میں ذبیحہ خانوں کو بند کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلہ پر شدید نکتہ چینی کی۔انہوں نے پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز دارالسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ریاست کے وزیراعلی کا سب سے پہلا کام وہاں کے عوام کے ساتھ انصاف کرنا اور دستوری فرائض انجام دینا ہونا چاہئے۔انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اترپردیش کی حکومت 15لاکھ افراد جو اس کے فیصلہ سے بے روزگار ہونے کے دہانے پرہیں،کو راحت پہنچاتے ہوئے ان ذبیحہ خانوں کو کھلوایا جائے کیونکہ حکومت کے اس فیصلہ سے ذبیحہ خانوں میں کام کرنے والے کئی افراد متاثر ہوگئے ہیں ۔ یہ افراد اپنی کئی نسلوں سے یہ کاروبار کرتے آ رہے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلی اس پرتوجہ دیں گے۔وزیراعلی کی پہلی ترجیح اس بات کی فکر ہونی چاہئے۔اگر مسلمانوں سے حکومت کو ہمدردی ہے تو پھر ان سے انصاف کرنا چاہئے۔اترپردیش میں قریشی برادری کے مسائل کے لئے سماج وادی پارٹی بھی ذمہ دار ہے۔صدرمجلس نے سوال کیا کہ ریاست میں سماج وادی پارٹی حکومت کے پانچ سالہ دور میں کتنے ذبیحہ خانوں کی تعمیر کروائی گئی؟

انہوں نے الزام لگایا کہ اکھلیش یادو نے 2014میں لکھنو کے قریب واقع ذبیحہ خانہ کو بند کروایا۔اسی طرح الہ آباد اور میرٹھ کے ذبیحہ خانوں کو بھی بند کروایا گیا ۔ان ذبیحہ خانوں کا احیا کیوں نہیں کیا گیا؟ایک نرم ہندوتواہے تو دوسرا سخت ہندوتوا ہے۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ہندوتوا غلط ہیں۔ملک میں سیکولرازم اور تنوع کو مضبوط کرنے کے لئے ایسے ناٹک کو بند کرنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ اعظم خان جب ایس پی کی حکومت میں شہری ترقی کے وزیر تھے تو انہوں نے کتنے ذبیحہ خانوں کی تعمیر کروائی ؟میرٹھ کے لوگ ان پر انگلی اٹھارہے ہیں کیوں کہ وہاں انہوں نے ذبیحہ خانہ کو بند کروایا۔اعظم خان نے حکومت میں رہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کیا، یہی تو مسلمانوں کی پریشانی ہے کہ کوئی نرم ہندوتواپر عمل کرتا ہے تو کوئی سخت ہندوتوا پر۔انصاف کاتقاضہ یہ ہے کہ ان ذبیحہ خانوں کودوبارہ کھلوایا جائے۔

ایک نرم ہندوتوا ہے تو دوسرا سخت ہندوتوا، یہ دونوں ہی ہندوتوا غلط ہیں: اسد الدین اویسی

اسد الدین اویسی: فائل فوٹو

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کو 26ہزار کروڑروپئے کا فائدہ بھینس کے گوشت کو برآمد کرنے سے ہوتا ہے جس میں سے 11ہزارکروڑ روپئے اترپردیش سے جاتے ہیں۔حکومت ہند برآمد کی اپنی پالیسی میں بھینس کے گوشت کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اترپردیش میں  جب گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے تو پھر شمال مشرق ریاستوں میں اس کے ذبیحہ کی کیوں اجازت حاصل ہے؟ان شمال مشرقی ریاستوں میں گاو ذبیحہ کی اجازت دی جا رہی ہے کیونکہ آئندہ سال تین شمال مشرقی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوا میں بیف آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔ یہی تو نرم ہندوتوا اورسخت ہندوتوا کا مسئلہ ہے۔ صدرمجلس نے اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے سوریہ نمسکار سے متعلق ریمارک پر کہا کہ اگر کوئی اترپردیش یا کوئی اورریاست کا وزیراعلی ہے تو اس کا پہلاکام سب سے انصاف ہونا چاہئے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے بیان دیا کہ یوگ میں نماز ہے۔اس طرح کے بیانات 55سال سے سنتے ہوئے کان پک گئے ہیں۔ ایسے لیڈروں کو حب الوطنی کا درس دینے کا یہ رویہ چھوڑنا چاہئے ۔

یہ سب ناٹک بازی بند ہونی چاہئے اور دستوری فرائض انجام دیتے ہوئے انصاف کرنا چاہئے اور انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اترپردیش میں جو 15لاکھ افراد بے روزگار ہونے کے دہانے پر ہیں، اگر واقعی ریاستی حکومت مسلمانوں سے ہمدردی رکھتی ہے تو ان سے انصاف کرے۔ اسد الدین اویسی نے مکہ مسجد بم دھماکہ کے ملزم سوامی اسیمانند کی ضمانت پر رہائی  پرشدید ردعمل کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ اسیمانند کے اچھے دن آگئے ہیں۔اب ہوسکتا ہے کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ،کرنل پروہت کے بھی اچھے دن آجائیں گے۔صدرمجلس نے واضح کیا کہ بی جے پی دہشت گردی پر بڑی بڑی باتیں کرتی ہے اور یہ کہاجاتاہے کہ دہشت گردی کو مذہب کی عینک لگا کر نہیں دیکھا جانا چاہئے تو پھر ایسا کیوں ہورہا ہے۔اسیما نند اجمیر دھماکہ معاملہ میں بری قراردیا گیا، حالانکہ اس نے اقبال جرم کرلیا تھا۔اجمیر دھماکہ معاملہ میں اسیمانند کو ملی ضمانت کے خلاف اندرون 90دن حکومت کیوں اپیل نہیں کرتی ۔انہوں نے استفسارکیا کہ اب ایسے معاملہ میں دہشت گردی کوکچلنے سے متعلق حکومت کے دعوے کا کیا ہوا۔ حکومت کو اسیمانند سے اتنی محبت کیوں ہے؟دہشت گردی کو کچلنے کے لئے نرم اور سخت دونوں طرح کا رویہ نہیں ہوناچاہئے بلکہ حکومت کو سخت موقف اختیار کرنا چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز