Live Results Assembly Elections 2018

قبلہ اول کی بازیابی کے لئے ہر فلسطینی جدوجہد جاری رکھے گا : فلسطین سپریم کورٹ جج محمود الحباش

فلسطین کی مکمل آزادی تک ہر ایک فلسطینی اپنی جدو جہد جاری رکھے گا۔ جنہوں نے آزادی فلسطین کی تحریک شروع کی تھی اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی نئی نسل سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ اس جد وجہد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ قبلہ اول کی سرزمین یہودیوں کے ناپاک وجود سے پاک نہ ہوجائے گی

Oct 29, 2017 09:36 PM IST | Updated on: Oct 29, 2017 09:36 PM IST

حیدرآباد : فلسطین کی مکمل آزادی تک ہر ایک فلسطینی اپنی جدو جہد جاری رکھے گا۔ جنہوں نے آزادی فلسطین کی تحریک شروع کی تھی اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے اپنی نئی نسل سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ اس جد وجہد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ قبلہ اول کی سرزمین یہودیوں کے ناپاک وجود سے پاک نہ ہوجائے گی۔ یاسرعرفات ، امین حسین اور ان جیسے کئی شہدوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک فلسطین کی آزادی کے لئے لڑائی لڑی۔ ان خیالات کا اظہار فلسطین سپریم کورٹ کے جج جناب محمود الحباش نے کیا۔ وہ آج انڈوعرب لیگ حیدرآباد کے زیر اہتمام ’یوم اظہار یگانگت‘ فلسطین سے مخاطب تھے۔

سید وقار الدین چیرمین انڈوعرب لیگ حیدرآباد کے زیر صدارت ہوٹل تاج کرشنا ، بنجارہ ہلز کے دربار ہال میں منعقدہ اس متاثر کن تقریب میں تلنگانہ کے نائب وزیراعلی محمود علی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ جبکہ سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر ایم وی ہنمنت راؤ ، جناب عزیز پاشاہ سابق ایم پی کمیونسٹ پارٹی، مسٹر اے راجا سی پی ایم اور مسٹر نرسمہلو کمیونسٹ پارٹی نے ہندوستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کی جبکہ فلسطین سے اظہار یگانگت کا اظہار کرنے اور انڈوعرب لیگ حیدرآباد کی پچاس سالہ فلسطینی اور ہند عرب کاز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے 12ممالک کے سفیروں نے شرکت کی جن میں خود فلسطینی سفیرعدنان ابو الحائجہ کے بشمول حسن الجوارنے(اردن) ، سراج الدین حامد یوسف (سوڈان)، فخری حسن مہدی العیسی (عراق)، ڈاکٹر ریاض کامل عباس(شام) ، غسان عبدالخالق (لبنان) قابلِ ذکر ہیں۔ سعودی عرب کے قونصلر جنرل بھی شہ نشین پر موجود تھے۔

قبلہ اول کی بازیابی کے لئے ہر فلسطینی جدوجہد جاری رکھے گا : فلسطین سپریم کورٹ جج محمود الحباش

Loading...

مسٹر محمود الحباش جن کے بارے میں امکان ہے کہ موجودہ صدر محمود عباس صدر فلسطین کے جانشین ہونگے۔ آج انتہائی متاثر کن الفاظ میں جناب سید وقار الدین کی بے لوث خدمات ، بے تکان جدوجہدکو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ ان کی صحت کامل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ارض فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ تسلط کے لئے برطانیہ ذمہ دار ہے جس نے 2؍ نومبر 1917کو بلفور ڈکلریشن کے ذریعہ یہودیوں کے لئے ایک آزاد مملکت اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس ڈکلریشن کا خالق آرتھر بلفور تھا جو اس وقت برطانیہ کا وزیر اعظم تھا۔ اس سال 2؍ نومبر2017کو حکومت برطانیہ کی جانب سے بلفور ڈکلریشن کا صد سالہ جشن منایا جارہا ہے ، عالمِ انسانیت کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور وہ بھی تھا جب فلسطینی جدوجہد آزادی کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی بلکہ مجاہدین فلسطین کو فلسطینی پرچم لہرانے پر جیل میں ڈال دیا جاتا تھا اور وہ خود بھی جیل کی مصیبتیں جھیل چکے ہیں۔

اللہ کے فضل و کرم سے آج دنیا کے 150ممالک میں فلسطینی پرچم لہرایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ نے اس کو مسلمہ حیثیت عطا کی ، کئی بین الاقوامی اداروں میں فلسطینیوں نے اپنے حقوق حاصل کئے ہیں۔ فلسطینی نوجوانوں کی تحریک انتقاضہ سے اسرائیل حواص باختہ ہے ، فلسطینی نوجوانوں کی پتھروں کی وہ تاب نہیں لاسکتا۔ اللہ تعالیٰ فلسطینیوں کی مدد کرے گا۔ان کے ساتھ انصاف کرے گا ، فلسطینیوں نے بہت مظالم سہے ، جتنا جبر و تشدد فلسطینی سرزمین پر کیا گیا کسی اور سرزمین پر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی فلسطین سے متعلق جو پالیسی رہی ہے وہ برقرار رہے گی۔ ڈاکٹر محمد جہانگیر نے محمود الحباش کی عربی تقریر کا اردو میں ترجمہ پیش کیا۔شام کے سفیر ڈاکٹر ریاض کامل عباس نے کہاکہ شام کے خلاف محاذ آرائی دراصل فلسطین کے خلاف محاذ آرائی ہے ۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز