پنيرسیلوم نے جے للتا کی موت کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا، کہا مجھے زبردستی ہٹایا گیا

Feb 08, 2017 11:52 AM IST | Updated on: Feb 08, 2017 11:53 AM IST

چنئی۔ تمل ناڈو کی سیاست سے ایک بڑی خبر آ رہی ہے۔ سبکدوش ہونے والے وزیر اعلی پنيرسیلوم نے جے للتا کی موت کے معاملے میں تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات ریٹائرڈ جج کی ایک ٹیم کرے گی۔ واضح رہے کہ پنيرسیلوم نے الزام لگایا تھا کہ جب جے للتا کی حالت بہت خراب تھی تب انہیں اماں سے ملنے نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں خزانچی کے عہدے سے زبردستی ہٹایا گیا۔ میں اسمبلی میں اکثریت ثابت کروں گا۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی کے بعد اے پنیر سیلوم نے ششی کلا کے خلاف بغاوتی تیور تیکھے کر دیئے ہیں۔ پنیر سیلوم کا کہنا ہے کہ ششی کلا کے وزیر اعلی بننے سے انا ڈی ایم کے کی بنیاد گرنے لگی ہے۔ پنیر سیلوم نے کہا کہ میں نے جے للتا کی بھرپور خدمت کی۔ میں ان کا بے حد قریبی رہا، اسی لئے انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد اب سب کچھ بدل گیا ہے۔

پنيرسیلوم نے جے للتا کی موت کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا، کہا مجھے زبردستی ہٹایا گیا

میں نے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی سے پہلے تقریبا دو گھنٹے تک ششی کلا سے بات چیت کی تھی۔ اس کے بعد مجھے ایک کاغذ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔ میں نے اپنا کام ایمانداری اور صاف گوئی سے کیا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ششی کلا وزیر اعلی بننے کے لئے اتنی جلد بازی میں کیوں ہیں؟ وہ تمل ناڈو کے سیاسی حالات بالکل نہیں سمجھتیں۔ جب آپ اقتدار کے لئے اتاولے ہوتے ہیں تو پھر ایسے خطرناک حالات کا پیدا ہونا فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر اعلی تھا تو میں نے کوشش کی تھی کہ پارٹی اور حکومت پر کوئی الزام نہ لگے۔ یہاں تک کہ اس کے لئے میں نے اپنی خواہشات کی بھی قربانی دے دی۔ جب انہوں نے مجھے استعفی دینے کو کہا، میں نے حامی بھر دی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز