تمل ناڈو میں ہزاروں افراد کا جلی کٹو پر پابندی کے خلاف مظاہرہ، جلی کٹو پرمودی سے ملے پنیرسلوم

چنئی۔ تمل ناڈو میں ہزاروں افراد جلی کٹوپرعائد پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔

Jan 19, 2017 03:22 PM IST | Updated on: Jan 19, 2017 03:23 PM IST

چنئی۔ تمل ناڈو میں ہزاروں افراد جلی کٹوپرعائد پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ چینئی کی مرینا بیچ پرہزاروں افراد نے رات گذاری۔ رات بھر تقریبا چار ہزار افراد ساحل سمندرپرموجودرہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کھیل تمل ناڈوکی پہچان ہے۔ جلی کٹو۔ بیلوں کی لڑائی سے مشابہ صدیوں پرانا کھیل ہے جس میں انسان اور بیل کے بیچ لڑائی ہوتی ہے۔اس کھیل پر عدالت نے پابندی عائد کردی ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک روایتی کھیل ہے جو تمل ناڈوکے فخر اور ثقافت کی نشانی ہے۔ پابندی کے خلاف چنئی کے علاوہ ریاست کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جارہے ہیں۔

تمل ناڈو میں ہزاروں افراد کا جلی کٹو پر پابندی کے خلاف مظاہرہ، جلی کٹو پرمودی سے ملے پنیرسلوم

جلی کٹو کے مسئلہ پر مودی سے ملے پنیر سلوم

وہیں، تمل ناڈو کے وزیراعلی او پنیرسلوم نے جلی کٹو کے مسئلے پر آج وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران  پنیرسلوم نے  مودی کو سپریم کوٖرٹ کے ذریعہ جلی کٹو پر پابندی لگائےجانے کی وجہ سے ریاست میں پیدا ہوئے تازہ ترین حالات سے واقف کرایا۔  مودی نے جلی کٹو کی ثقافتی اہمیت کی تعریف کی اور کہا کہ فی الحال یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم کی حمایت کرے گی۔

modi-panneerselvam-PIB-875

وزیراعظم نے  پنیرسلوم کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ریاست میں خشک سالی کی حالت سے نپٹنے کےلئے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے اور جلد ہی وہاں ایک مرکزی ٹیم بھیجیں گے۔

سپریم کورٹ نے جلی کٹو احتجاج میں مداخلت سے کیا انکار

دوسری طرف،  سپریم کورٹ نے جلی کٹو پرعائد پابندی کی منسوخی کے لئے چنئی کی مرینا بیچ پر ہونے والے عوامی احتجاج میں مداخلت کی عرضی پر سماعت سے آج انکار کردیا۔ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر کی سربراہی والی ایک بنچ نے وکیل راجہ رمن کی داخل کردہ ایک عرضی پر سماعت سے انکار کردیا۔ سپریم کور ٹ نے عرضی گزار سے کہا کہ راحت کے لئے وہ مدراس ہائی کورٹ میں مناسب عرضی داخل کریں۔

Jallikattu2

عرضی گزار نے درخواست کی تھی کہ عدالت کواس معاملہ میں از خود نوٹس لینا چاہئے جیسا کہ اس نے رام لیلا میدان کیس میں کیا تھا۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ مرینا بیچ پر لوگ پر امن طریقہ سے احتجاج کررہے ہیں لیکن پولیس انھیں کھانا اور پانی لینے کی اجازت بھی نہیں دے رہی ہے ۔ اس لئے عدالت کو اس معاملہ میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس پر سماعت کرنی چاہئے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز