تلنگانہ: 66 کروڑ کی افطار پارٹی تنازعات کی زد میں، ہائی کورٹ میں پی آئی ایل دائر

Jun 09, 2018 12:32 PM IST | Updated on: Jun 09, 2018 08:51 PM IST

رمضان اور عید کے مدنظر تمام سیاسی جماعتوں میں افطار پارٹی دینے کی ایک روایت سی ہو گئی ہے۔ دراصل، ایسا کر کے یہ جماعتیں ایک خاص ووٹ بینک کو ٹارگیٹ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تازہ ترین معاملہ تلنگانہ کا ہے، جہاں وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو (کے سی آر) نے سالانہ منعقد ہونے والی افطار پارٹی میں 66 کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، کئی سماجی تنظیموں نے کے سی آر کے اس فیصلے پر اپنی ناراضگی جتائی ہے۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک پی آئی ایل بھی داخل کی گئی ہے۔

بتا دیں کہ کے سی آر کی دعوت افطار حیدرآباد میں دی گئی ہے۔ اس میں وزیر اعلی، ان کی کابینہ کے ارکان کے علاوہ، شہر کی معروف شخصیات نے حصہ لیا۔ کہا جا رہا ہے کہ حیدرآباد میں افطار پارٹی کی اہم تقریب کے انعقاد کے علاوہ، گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بھی ایک پروگرام منعقد کیا جائے گا۔

تلنگانہ: 66 کروڑ کی افطار پارٹی تنازعات کی زد میں، ہائی کورٹ میں پی آئی ایل دائر

تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو: فائل فوٹو۔

کے سی آر کی افطار پارٹی کے خلاف دائر درخواست میں درخواست دہندگان نے ریاستی حکومت کی طرف سے تلنگانہ کے اقلیتی فلاحی منصوبوں کا قیمتی پیسہ اس طرح کی پارٹی کے انعقاد پر پانی کی طرح بہا کر اس کے غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ بتا دیں کہ الگ ریاست بننے کے بعد سے تلنگانہ پر قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ موجودہ وقت میں تلنگانہ کا قرض 1.80 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز