وزیراعظم کا دورہ اسرائیل: فلسطینی علاقوں کا بھی دورہ کرنے کا اسدالدین اویسی کا مطالبہ

Jul 03, 2017 07:09 PM IST | Updated on: Jul 03, 2017 07:25 PM IST

حیدرآباد۔  حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کُل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل پر سوال اُٹھایا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مودی ایک ایسے وقت اسرائیل کا دورہ کررہے ہیں جب مغربی کنارہ بشمول یروشلم اور اسرائیلی قبضہ کے 50 سال مکمل ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ 7 دہائیوں سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی فلسطین کے کاز کی حمایت ہے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ اپنے تین روزہ دورہ کے دوران فلسطینی اتھاریٹی کے ذمہ داروں سے ملاقات کریں اور ساتھ ہی اسرائیلی قبضہ والے علاقوں کا دورہ کریں۔ انھوں نے موجودہ حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی پیشرو حکومت نے اسرائیلی اسلحہ کی کمپنیوں کی جانب سے رشوت دئے جانے پر ان کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا تھا، موجودہ حکومت اب ایسی اسلحہ کی کمپنیوں کو کنٹراکٹس دے رہی ہیں جب کہ یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل کے اسلحہ ہندوستان میں استعمال کے قابل نہیں ہیں اور یہ ناکام ہوگئے ہیں۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بارڈر کنٹرول سنسرس بھی ہندوستان میں غیر مؤثر ہوگئے ہیں جو اسرائیل سے لائے گئے تھے۔ ان سنسرس کے باوجود پاکستان کی طرف سے دراندازی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسرائیلی ڈرونس بھی ہندوستان میں ناکام ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سات دہائیوں کی ہماری خارجہ پالیسیوں کے پیش نظر انھیں اُمید ہے کہ وزیراعظم اپنے تین روزہ دورۂ اسرائیل کے موقع پر اس کے زیر قبضہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ دُنیا کے ایسے کئی ممالک ہیں جو اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے کے باوجود فلسطین کے کاز کی حمایت کرتے ہیں اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضہ کی مذمت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اسرائیل کو جنگی جرائم والا ملک قرار دیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہندوستان اُن پانچ ممالک میں شامل رہا ہے جو رائے دہی کے موقع پر اس مسئلہ پر غیر حاضر رہا تھا۔ ہماری خارجہ پالیسی میں یہ تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔ موجودہ مخصوص حکومت کا ایجنڈہ فلسطینی کاز نہیں ہے۔ حالانکہ ہندوستان کی ہر حکومت نے فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے اور یہ ہماری خارجہ پالیسی رہی ہے۔

وزیراعظم کا دورہ اسرائیل: فلسطینی علاقوں کا بھی دورہ کرنے کا اسدالدین اویسی کا مطالبہ

اسدالدین اویسی: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز

انھوں نے سوال کیا کہ موجودہ حکومت کیوں اسرائیلی اسلحہ کی کمپنیوں کو کنٹراکٹ دے رہی ہے؟ اسے پیشرو حکومتوں نے بلیک لسٹ کیا، حالانکہ اسرائیل کے یہ اسلحے پاکستان سے ہورہی دراندازی کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہندوستان نے 5 بلین ڈالرس کی باہمی تجارت اسرائیل کے ساتھ کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی سے وزیراعظم ملاقات نہیں کررہے ہیں۔ سید صلاح الدین کو امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دینے کے مسئلہ پر انھوں نے کہا کہ دہشت گرد کوئی بھی ہو، اس سے سختی سے نمٹنا چاہئے۔ امریکہ نے حافظ سعید کو بھی عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ امریکہ حافظ سعید کے معاملہ پر کیوں خاموش ہے؟ 26/11 میں اس کے ملوث ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا۔

حافظ سعید کے کئی حامی فدائین کے طور پر یہاں آئے اور کئی ہلاکتوں میں حصہ لیا۔ امریکہ کو چاہئے کہ حافظ سعید کے خلاف بھی شدید رویہ اختیار کرے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی طالبان ہوں، افغانستان کے طالبان ہوں یا پھر حافظ سعید، ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ حافظ سعید پر اپنی پالیسی واضح کرے۔  انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی قراردادوں کا احترام نہیں کیا۔ جب کبھی ہندوستان کے کوئی بھی لیڈر اسرائیل کا دورہ کیا کرتے، تو وہ ساتھ ہی اسرائیلی قبضہ والے علاقوں کا بھی دورہ کیا کرتے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز