یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیم کے مندروں کی شکل میں ترقی دی جائے : صدر جمہوریہ

Apr 26, 2017 11:40 PM IST | Updated on: Apr 26, 2017 11:40 PM IST

حیدرآباد : صدر جمہوریہ ہندپرنب مکھرجی نے آج حیدرآباد میں عثمانیہ یونیورسٹی کی صدی تقریبات سے متعلق افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیم کے مندروں کی شکل میں ترقی دیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں ایسی جگہیں ہوں جہاں تخلیقی تعلیم کا ماحول ہو، جہاں خیالات کا آزادانہ تبادلہ ہواور جہاں طلبا اور اساتذہ کی شکل میں مضبوط ذہن و دماغ خیالات کا تبادلہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی بھی اس خواب کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ یہ ایک ایسا ممتاز ادارہ ہوگا جہاں آزاد ذہن آزادانہ طور پر مل سکیں گے، ایک دوسرے سے بات چیت کرسکیں گے اور خیالات کا تبادلہ کرسکیں گے نیز پرامن بقائے باہم کے ساتھ جی سکیں گے۔ قدیم ہندوستان میں، ہندوستان نے اعلی تعلیم کے شعبے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ تکشیلا، نالندہ، وکرم شیلا وغیرہ جیسی یونیورسٹیوں نے طلبا اور اساتذہ کی شکل میں مضبوط دماغوں کو اپنی طرف راغب کیا۔

یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیم کے مندروں کی شکل میں ترقی دی جائے : صدر جمہوریہ

صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج بلاشبہ اعلی تعلیم کے شعبے میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کے سلسلے میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔ تاہم کچھ چیزیں باعث تشویش ہیں۔ 100 سے زیادہ اعلی تعلیم کے مرکزی اداروں کے وزیٹر ہونے کے ناطے وہ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ہندوستان کے ان اداروں کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی درجہ بندی میں اپنا صحیح مقام حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس پہلو پر توجہ دینے کے علاوہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی تحقیق اور تعلیم پر بھی توجہ مبذول کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں / تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان ایک موثر رابطہ ہونا چاہیے۔ ہم الگ تھلگ رہ کر نہیں جی سکتے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اور جدت طرازی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ہم بین الاقوامی برادری میں اپنا صحیح مقام حاصل کرسکیں۔صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان خیالات کو عملی شکل دی جانی چاہیے۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز