نئی حج پالیسی کو لے کر ملک بھر میں مسلمانوں میں تشویش کی لہر، صدائے احتجاج بلند ہونی شروع

Oct 19, 2017 02:21 PM IST | Updated on: Oct 19, 2017 02:21 PM IST

رائچور : ملک بھر میں نئی حج پالیسی کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے ۔ نئی حج پالیسی کو لے کر کرناٹک کے رائچور ضلع کے مسلمانوں میں بھی غم وغصہ دیکھا جا رہا ہے ۔ حج امور اورعازمین کے سلسلہ میں رضاکارانہ طورپر کام کرنے والے رضا کار کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی سازش کررہی ہے ۔ کہا گیا کہ پالیسی نافذ کرنے سے پہلے مسلم لیڈروں اورعلماء کرام سے مشورہ کرنا چاہیے تھا ۔

سینٹرل مسلم ایسوسی ایشن شاخ ضلع رائچور کے صدر محمد عبداللہ اقبال منیار نے ای ٹی وی سے بات کرتے ہوئے نئی حج پالیسی کو اقلیت اور مسلم دشمن پالیسی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 21 میں سے صرف 9 شہروں کے امبارکیشن پوائنٹ سے عازمین کو روانہ کرنا، 45 سالہ خواتین کو محرم کے بغیر گروپ میں سفر حج کرنے کی اجازت دینا، نجی ٹور آپریٹروں کے لئے ایک جامع پالیسی مرتب کرنا اور 70سال سے زائد عمر والے اور4 برسوں درخواست داخل کرنے والے افراد کو کوٹہ سے محروم کرنا جیسی سفارشات ناقابل قبول ہیں ۔ انہوں نے نئی حج پالیسی نافذ کرنے سے پہلے مسلم عوامی نمائندوں اورعلمائے کرام سے مشورہ کرنے کی حکومت تجویز پیش کی ۔

نئی حج پالیسی کو لے کر ملک بھر میں مسلمانوں میں تشویش کی لہر، صدائے احتجاج بلند ہونی شروع

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز