ماہ رمضان میں حیدرآباد کی علامت خصوصی ڈش حلیم کا کاروبارعروج پر

Jun 05, 2017 03:34 PM IST | Updated on: Jun 05, 2017 03:34 PM IST

حیدرآباد۔ شہر حیدرآباد میں ان دنوں حلیم کا کاروبار عروج پر دیکھا جارہا ہے۔ ماہ رمضان المبارک کی خصوصی ڈش حلیم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ مختلف ہوٹلوں کی حلیم مختلف ذائقہ اور اقسام کے لئے مشہور ہیں او ردور دراز علاقوں سے لوگ حلیم کا مزہ چکھنے کے لئے حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کا رخ کرتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہوٹلوں میں حلیم فروخت ہوتی ہے اور اس سلسلہ میں ہوٹلوں میں مسابقت بھی دیکھی جاتی ہے۔ پرانے شہر بالخصوص شاہ علی بنڈہ کی سڑک پر افطار سے پہلے اور افطار کے بعد لوگ حلیم کی خریداری میں مصروف دیکھے جاتے ہیں۔ پرانے شہر کی ہوٹلوں کی حلیم کا منفرد انداز لوگوں کو راغب کرتا ہے۔

رمضان کے مہینے میں ذائقوں سے بھرپور یہ ڈش حلیم حیدرآباد کی علامت سمجھی جانے والی بریانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ تاریخی چارمینار کے علاقہ میں صدیوں قدیم بازار ہوں یا پھر دونوں جڑواں شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے دوسرے علاقے ہوٹلوں کے سامنے حلیم کی بھٹیاں لگائی جاتی ہیں جو ایک عام نظارہ ہے۔ماہر استاد اپنے شاگردوں کے ساتھ بڑی ہی محنت سے بڑی بڑی دیغوں میں حلیم بناتے ہیں۔ یہ مکمل پکوان جو دس تا 12گھنٹوں تک جاری رہتا ہے لکڑیوں پر پکایا جاتا ہے۔ گوشت ، گیہوں ، دالوں اور مصالحہ جات سے تیار کی جانے والی حلیم دراصل ایک عربی ڈش ہے جو مغل دورمیں افغانستان اور ایران سے ہوتے ہوئے حیدرآباد پہنچی۔ ہندوستانی مصالحہ جات ، خشک میوے جات ، گھی اورپکوان کے منفرد طریقہ سے اس سیال ڈش کو ہندوستانی رنگ دیا گیا ہے اور اس کی تیاری میں حیدرآباد کوملک بھر میں منفرد مقام حاصل ہے۔

ماہ رمضان میں حیدرآباد کی علامت خصوصی ڈش حلیم کا کاروبارعروج پر

اس طرح حیدرآباد کی پہچان اب بریانی کے ساتھ ساتھ حلیم سے بھی ہونے لگی ہے۔ فائیو اسٹارہوٹلوں سے لے کر مشہور اور چھوٹے ہوٹلوںتک میں حلیم تیار کی جارہی ہے جو رمضان المبارک میں افطار کے وقت ایک ترجیحی غذ ا ہے ۔ اس کی وجہ اس کی تغذیہ بخش نوعیت اور ذائقہ ہے۔ حیدرآباد میں 600سے زائد مقامات پر حلیم تیار کی جارہی ہے اور ایک اندازہ کے مطابق رمضان کے دوران یہ 100کروڑ روپئے سے زائد کا کاروبار ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز