ٹیپو سلطان جینتی تقاریب کو لے کر بی جے پی - کانگریس آمنے سامنے ، بھگوا پارٹی کا مخالفت کرنے کا فیصلہ

Oct 22, 2017 06:22 PM IST | Updated on: Oct 22, 2017 06:23 PM IST

بنگلورو: کرناٹک میں بی جے پی نے 10 نومبر سے ریاست بھر میں منائی جانے والی ٹیپو جینتی تقاریب کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے جبکہ میسور کے سابق بادشاہ ٹیپو سلطان سے موسومہ یہ تقاریب کانگریس حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر منائی جارہی ہیں۔ بی جے پی پریورتن یاترا کے ایک اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر کے مرلی دھر راؤ نے کہا کہ بی جے پی سیکولر ہے اور ملک میں عوام کے تمام طبقات کی حمایت کرتی ہے لیکن وہ ٹیپو جینتی کی مخالفت کرے گی کیونکہ اس مقامی راجہ نے جنوبی ہند نے اپنے دورہ اقتدارکے دوران کئی ہندوؤں کو ہلاک کیا۔

انہوں نے کانگریس حکومت پر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ووٹ بینک سیاست پر عمل کرتے ہوئے غیر صحت مند رجحان کا الزام لگایا۔ انہوں نے پریورتن یاترا کو روکنے کے خلاف حکومت کو انتباہ دیا۔ زعفرانی پارٹی کی اس طرح کی یاترا اس سال کے اوائل میں فرقہ وارانہ طور پر حساس شہر منگلورو میں رکھی گئی تھی لیکن اسے روک دیا تھا۔

ٹیپو سلطان جینتی تقاریب کو لے کر بی جے پی - کانگریس آمنے سامنے ، بھگوا پارٹی کا مخالفت کرنے کا فیصلہ

راؤ نے الزام لگایا کہ ٹیپو سلطان نہ صرف ہندو قوم کے خلاف تھے بلکہ انہوں نے کرناٹک‘ کیرل اور دیگر مقامات پر جبری مذہبی تبدیلی کا کام کیا۔ ٹیپو کو حکمران کی حیثیت سے مانتے ہوئے تقاریب کا اہتمام کیرل کے ملابار اور کرناٹک کے کوڈارو اضلاع کے عوام کے جذبات کے خلاف ہے۔

ادھر بی جے پی کے اعتراض کو کانگریس نے مسترد کردیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے لیڈر ڈی کے شیو کمار نے کہاکہ کرناٹک میں ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش سرکاری طور پر منائی جاتی ہے اور کسی بھی سرکاری پروگرام میں مرکزی وزرا کو پروٹوکول کے تحت دعوت دی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو وہ اس کا ذاتی معاملہ ہوگا۔ انہوں نے بی جے پی کی طرف سے ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کی تقریب کو ختم کرنے کے اعلان کو مضحکہ خیز قراردیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز