فرقہ وارانہ تشدد : منگلور میں امتناعی احکام کا نفاذ، مقامی مٹھ کے سربراہ کو پولیس کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت

Jul 16, 2017 07:12 PM IST | Updated on: Jul 16, 2017 07:12 PM IST

منگلور: کرناٹک کے ضلع دکھشن کنڑ کے مختلف مقامات پر حالیہ عرصہ میں پیش آئے فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات کے تناظر میں منگلور کے شہری حدود میں 30جولائی تک امتناعی احکام نافذ کردیئے گئے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں میں مقامی مٹھ کے سربراہ کو پولیس کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت دی ہے کیونکہ انہوں نے دعوی کیا تھا کہ قریبی علاقہ بنٹوال میں آر ایس ایس کارکن کے قتل کے ضمن میں وہ اہم معلومات رکھتے ہیں۔ پولیس نے آج ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر پر یہ بات کہی ۔

منگلور کے پولیس کمشنر ٹی آر سریش کے حوالے سے سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ کرناٹک پولیس ایکٹ 1963کے دفعہ 35کے تحت آج صبح 6بجے سے 30جولائی کی نصف شب تک امتناعی احکام نافذ کئے گئے ہیں۔ ضلع کے چار دیگر تعلقہ جات بشمول بنٹوال میں دفعہ144کے تحت امتناعی احکام نافذ رہیں گے۔کرناٹک کے وزیراعلی سدارامیا نے 10جولائی کو پولیس کو ہدایت بھی دی تھی کہ ان افراد کو گرفتار کیا جائے جو ضلع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 4جولائی کو نامعلوم افراد نے آر ایس ایس کارکن شردمڈی والا کو چاقو گھونپ دیا اور زخمی شرد کی 7جولائی کو موت ہوگئی۔ ایک 24سالہ شخص نے دعوی کیا کہ جس کا تعلق دائیں بازو کے حامیوں میں ہوتا ہے ‘ پر 8جولائی کو کتور میں بعض افراد نے حملہ کردیا۔

فرقہ وارانہ تشدد : منگلور میں امتناعی احکام کا نفاذ، مقامی مٹھ کے سربراہ کو پولیس کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت

قبل ازیں 21جون کو بنٹوال میں بہیاناپڈاؤ میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے کارکن کا قتل ہوگیاتھا جس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوگیاتھا اور حکام کو امتناعی احکام میں توسیع دینا پڑا جو دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد 27جولائی کو پہلی مرتبہ نافذ کئے گئے تھے۔ پولیس نے اعزازی صدر ہندوسمارکھشنا سمیتی سری راج شیکھرآننداسوامی کو نوٹس جاری کی اور انہیں بنٹوال پولیس اسٹیشن کے جانچ افسرکے روبرو کل پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ۔ سوامی جو گرپور وجرادیہی مٹھ کے سربراہ ہیں نے14جولائی کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ان کے پاس سازش کے تعلق سے معلومات اور مڈی واڑہ کے قتل کے تعلق سے دیگر تفصیلات موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ صرف اسی وقت ان تفصیلات کو منظرعام پر لائیں گے جب نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی اس معاملہ کی جانچ کرے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز