میڈیکل کالج کی طالبات کا لیکچرر پر شراب پی کر کلاس لینے اور جنسی ہراسانی کا الزام

Apr 13, 2017 12:32 PM IST | Updated on: Apr 13, 2017 12:32 PM IST

گلبرگہ۔ کیا ملک کے اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی  طالبات کیلئے محفوظ نہیں ہیں ۔ کیا  درس وتدریس سے وابستہ شخصیات بھی اپنے پیشے کا تقدس برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہی ہیں ۔  گلبرگہ کے ڈاکٹر ملک ریڈی ہومو پیتھ  میڈیکل کالج  میں ہو رہے مبینہ جنسی ہراسانی کے ایک واقعے نے اس طرح کے کئی سوالات کھڑے کئے ہیں۔ ڈاکٹر ملک ریڈی ہوموپیتھ میڈیکل کالج کا شمار گلبرگہ کے بڑے کالجوں میں کیا جا تا ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ علاقے  کی سب سے قدیم حیدرآباد کرناٹک ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت  چلتا ہے۔

 یہاں طلبا اور طالبات نے اپنے کالج کے  لیکچرر پر جنسی ہراسانی اور فحش کلامی کا الزام عائد کر انصاف کا مطالبہ ہائے ہائے اور مردہ باد مردہ باد کا نعرہ لگا کر  کیا ۔  ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کالج لیکچرر کے خلاف گزشتہ ماہ ہی تحریری شکایت کی تھی، لیکن کالج انتظامیہ اس پر کوئی بھی ایکشن لینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ کالج انتظامیہ  کی تساہلی کا غصہ منگل کو پھوٹ پڑا۔ اسٹوڈنٹس نے منگل کو کالج کیمپس میں جم کر احتجاج کیا۔ ادھر کالج پرنسپل کا کہنا ہے کہ  طالبات کی شکایات پرگزشتہ ماہ ہی  تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔  سدھلنگ مالی پاٹل کے خلاف جو شکایت آئی ، میں نے ہماری سوسائٹی کے صدر کو سونپ دی ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی میں نے انھیں سونپ دی ہے۔  صدر نے یقینی طور پر  کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔  ہے۔ جس کی رپورٹ بھی انھوں نے کالج انتظامیہ کو سونپ دی ہے ۔  دوسری جانب ملزم لیکچرر خود کو بے قصور بتا  رہے ہیں ۔

میڈیکل کالج کی طالبات کا لیکچرر پر شراب پی کر کلاس لینے اور جنسی ہراسانی کا الزام

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز