مسلمانوں کے عائلی مسائل کے حل کیلئے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں جلد ہی شرعی کونسلوں کی ہوگی توسیع

Jul 09, 2017 06:34 PM IST | Updated on: Jul 09, 2017 06:34 PM IST

حیدرآباد: امیر امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھراپردیش ورکن مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا حسام الدین ثانی عامل جعفرپاشاہ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل کے حل اور ان کو عدالتی کشاکش سے بچانے کے لئے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں عنقریب شرعی کونسلوں کی توسیع کا کام کیاجائے گا۔یہ کونسلیں امارات ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھراپردیش کے تحت پہلے ہی کئی مقامات پر کا م کر رہی ہیں لیکن اب ان کی توسیع کی جارہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی یہ مساعی کامیاب ثابت ہوگی۔مولانا جعفر پاشاہ نے کہاکہ فریقین کو مقدمہ بازی سے بچاتے ہوئے قرآن وسنت کے مطابق نکاح، طلاق،فسخ نکاح، وراثت سے متعلق جھگڑے صلح صفائی ،افہام وتفہیم کے ذریعہ ان شرعی کونسلوں اور دارالقضا میں حل کئے جاتے ہیں۔

انہوں نےدوٹو ک انداز میں کہا کہ شرعی کونسلیں یا دارالقضا ، ہندوستان کی عدالتوں کے مساوی نہیں ہیں اور نہ ہی عدالتی کام کاج میں یہ کسی بھی طرح کی رکاوٹ ہیں بلکہ ان شرعی کونسلوں کا مقصد مسلمانوں کو اپنے عائلی مسائل کے حل کے لئے عدالتی کشاکش اور مقدمہ بازی سے روکتے ہوئے قرآن وسنت کے مطابق ان کے جھگڑوں کو حل کرنا ہے۔موجودہ طورپر عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے اور عدالتوں میں مقدمہ بازی کے لئے کافی وقت اورپیسہ صرف ہورہا ہے۔ ایسے میں شرعی کونسل اور دارالقضا سے رجوع ہونے والے فریقین کے مسائل کو شریعت کی روشنی میں افہام وتفہیم کے ذریعہ حل کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔جب دونوں فریق ان شرعی کونسلوں پر رضامند ہوں تب ہی اس کافیصلہ کیاجاتا ہے اور ان کے سلسلہ میں لوگوں میں بھی حالیہ دنوں میں شعور دیکھاجارہا ہے جو خوش آئند بات ہے۔

مسلمانوں کے عائلی مسائل کے حل کیلئے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں جلد ہی شرعی کونسلوں کی ہوگی توسیع

file photo

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی بھی فریق شرعی کونسل یا پھر دارالقضا کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ عدالت کا رخ کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شریعت کی روشنی میں عائلی مسائل کے حل کے اقدامات کرنا ملک کے عدالتی نظام میں رکاوٹ نہیں ہے یااس کو متوازی عدالت قرار دینا مناسب نہیں ہے کیونکہ اس کا کام عدالتی کام کاج سے بالکل جداگانہ ہے۔ یہ شرعی کونسل اور دارالقضاکسی بھی لحاظ سے ملک کے موجودہ عدالتی نظام کے مساوی نہیں ہیں اور نہ ہی عدلیہ کے کام کاج میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہاکہ وقت کا تقاضہ ہے کہ مسلمان اپنے عائلی مسائل قرآن وسنت کے مطابق حل کریں کیونکہ دیکھنے میںیہ آرہا ہے کہ کئی نوجوان اپنے شادی بیاہ ، جائیدادوں کے تنازعات کے حل کے لئے عدالتوں کا رخ کر رہے ہیں اور ایسے میں علما کی یہ کوشش ہے کہ ان کو عدالتی مقدمہ بازی سے بچایا جائے۔اس کے لئے یہ شرعی کونسل اوردارالقضا کافی مدد گار ثابت ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پٹنہ میں دارالقضا کا مرکز ہے جہاں گزشتہ 30سے زائد برسوں سے حق وراثت کے ساتھ ساتھ خاندانی اختلافات،نکاح ، وراثت کے حقوق کے مسائل کا کامیاب انداز سے حل نکالاجارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ دارالقضا میں تربیت یافتہ قاضی صاحبین ہوتے ہیں جو حق وراثت کے ساتھ ساتھ خاندانی اختلافات،نکاح ، وراثت کے حقوق کے مسائل اور دیگر مسائل کے حل کے ماہر ہوتے ہیں ، ان کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ان شرعی کونسلز کی توسیع تلنگانہ اور اے پی میں عمل میں لائی جائے گی۔آندھراپردیش کے وجئے واڑہ،کڑپہ، تلنگانہ کے ورنگل،سوریہ پیٹ کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کے علاقوں بابانگر،مولاعلی،فلک نما میں یہ شرعی کونسلس پہلے ہی کام کررہی ہیں۔ان کی مختلف علاقوں میں توسیع کاکام عنقریب شروع کیا جائے گا۔علاقہ کی جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی کے ذمہ داروں کو بھی ان کونسلوں کا حصہ بنایاجائے گا اوردارالقضا کے دفاتر بھی کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ان شرعی کونسلوں سے رجوع کرنے والوں سے ان کے مسائل پوچھے جائیں گے اور پھر فریق ثانی کو بھی طلب کرتے ہوئے ان کے مسائل کو قرآن وسنت کی روشنی میں ثالثی کے ذریعہ حل کیاجائے گااور معاملہ زائد پیچیدہ ہونے پر اس کو دارالقضا سے رجوع کیاجائے گاجہاں سرکردہ علماکرام ان کے معاملات کی سماعت کریں گے اور ان کی کونسلنگ بھی کی جائے گی۔

انہوں نے دارالقضا کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ اب تک کئی عائلی مسائل کے تصفیے کئے گئے اور تقریبا 80فیصد افراد نے اس دارالقضا کے فیصلوں کو قبول کیا ہے اور اگر کوئی بھی دارالقضا کے فیصلہ کو ماننے سے انکارکرتا ہے تو وہ ملک کی کسی بھی عدالت کو جانے کے لئے آزاد ہے اور اس پرکسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ دارالقضا میں خواتین کے ازدواجی زندگی کے مسائل کے حل کے لئے خواتین کو بھی مقررکیا گیا ہے تاکہ وہ خواتین کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور ان کے حل کی کوشش کریں۔مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ فسخ نکاح،وراثت اور دیگر کئی معاملات کا کامیابی کے ساتھ تصفیہ کیا گیا اورجو فریق ایک دوسرے کے دست گریبا ں تھے وہ ان فیصلوں کے بعد خوشی خوشی اپنے گھر واپس ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ کئی لڑکیاں اپنے گھریلو اور ازدواجی مسائل پر پریشا ن رہتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بعض معاملات میں شادی شدہ لڑکیاں جو مسائل کے سبب اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھی ہوئی تھیں ، ان کے حل کے لئے جب دارالقضاسے رجوع ہوئیں تو دونوں فریقین کو طلب کرتے ہوئے ان کے مسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کیا گیا اور شوہر و بیوی کے حقوق سمجھائے گئے جس پر والدین کے ساتھ آئی لڑکیاں اپنے شوہروں کے گھرخوشی خوشی روانہ ہوئیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز