وسیم رضوی کی روی شنکر سے ملاقات، کہا اگلے سال تک مندر کی تعمیرکا کام شروع ہو جائے گا

بنگلورو۔ اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی نے اجودھیا بابری مسجد تنازعہ کا حل عدالت سے باہر سبھی فریقوں کی رضامندی سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف روحانی گرو شری شری روی شنکر سے آج یہاں ملاقات کی۔

Oct 31, 2017 04:19 PM IST | Updated on: Oct 31, 2017 06:28 PM IST

بنگلورو۔  اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی نے اجودھیا بابری مسجد تنازعہ کا حل عدالت سے باہر سبھی فریقوں کی رضامندی سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف روحانی گرو شری شری روی شنکر سے آج یہاں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد مسٹر رضوی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ملک میں امن چاہتے ہیں ان کوششوں کی ستائش کررہے ہیں۔ لیکن جو تشدد میں یقین رکھتے ہیں وہ اس کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متنازعہ مقام پر اب کوئی مسجد نہیں ہے وہاں صرف مندر ہے۔ آس پاس میں کئی مسجدیں ہیں جہا ں پر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ مسٹر رضوی نے مسئلہ کا حل بات چیت سے جلد نکالنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رام کے نام پر ملک میں ٹکراؤ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مسلم مذہبی رہنما تنازعہ کے تصفیہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شیعہ وقف بورڈ کے صدر کے حیثیت سے اپنی بات رکھ رہے ہیں۔

بورڈ نے تنازعہ سے متعلق سبھی فریقوں سے بات چیت کی ہے۔ اگلے سال تک مندر کی تعمیر کا کام شروع ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے مسٹر رضوی نے کہا کہ آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر کی کوشش سے مسئلہ کا حل نکل آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجودھیا اور فیض آباد میں جتنی مسجدیں ہیں وہ وہاں کے مسلمانوں کے لئے کافی ہیں۔  دریں اثنا شری شری روی شنکر نے کہا ہے کہ ایک ایسے منچ کی ضرورت ہے جہاں دونوں فرقے کے لوگ بھائی چارے اور خیر سگالی کے ماحول میں بات چیت کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب حالات تنازعہ کے حل کے لئے پہلے کے مقابلے میں زیادہ سازگار ہیں۔

وسیم رضوی کی روی شنکر سے ملاقات، کہا اگلے سال تک مندر کی تعمیرکا کام شروع ہو جائے گا

مسٹر رضوی نے کہا کہ آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر کی کوشش سے مسئلہ کا حل نکل آئے گا۔

سال 2003 اور 2004 میں ہوئی کوششوں کے مقابلے میں اب ماحول بدل چکا ہے۔ لوگ اب کے خواہاں ہیں ۔وہ اپنی طرف سے یہ کوشش کررہے ہیں اور اس کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا معاملہ پھر زور پکڑرہا ہے۔ واضح رہے کہ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ایک سرکردہ رکن رام ولاس ویدانتی نے اجودھیا مسئلہ کے تصفیہ کے لئے شری شری روی شنکر کی پہل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ثالثی کسی بھی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز