کوپل ضلع کے کنکن کلّو دیہات میں پینے کے پانی کیلئے لوگ میلوں کا فاصلہ طے کرنے پر مجبور

Apr 24, 2017 08:28 PM IST | Updated on: Apr 24, 2017 08:28 PM IST

بنگلورو۔ شمالی کرناٹک کے کئی دیہاتوں میں آج بھی پینے کے پانی کی قلت درپیش ہے ـ کوپل ضلع کے ٹنکن کلّو نامی دیہات میں مکینوں خصوصاً خواتین اور بچوں کو چار گھڑے پانی کے لیے میلوں کا فاصلہ طے کرنا پڑرہا ہے ـ  کوپل ضلع سے صرف دو کلومیٹر کی دوری پر کٹکن کلّو نامی دیہات واقع ہے ـ تقریباؑ ایک ہزار لوگوں کی آبادی والے اس دیہات میں لوگوں کو بوند بوند پانی کے لیے در در بھٹکنا پڑ رہا ہے ـ دیہات میں چار بورویل کھودے گئے ہیں لیکن  شدید گرمی کی وجہ سے  یہ تمام بورویل خشک ہوچکے ہیں ـ یہاں کے عوام کو دو کلو میٹر دوری پر واقع ہینڈ پمپ بورویل سے پانی حاصل کرنا پڑرہا ہے ـ صبح سے شام تک کیا خواتین کیا بچے تمام اس بورویل کے سامنے اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ـ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے ایک بورویل کھودا ہے ـ اس بورویل سے حاصل ہونے والا پانی ناکافی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ـ ان پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے پینے کے پانی کا یونٹ بھی قائم کیا گیا ہے لیکن چند تکنیکی وجوہات سے  پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے ـ

ایک مقامی نے بتایا  کہ پورے گاؤں کے لیے ایک ہی بورویل ہے ۔ اسی بورویل سے ہر ایک کو پانی حاصل کرنا پڑتا ہے ـ گاؤں کے اندر مزید تین تا چار بورویل ہیں۔ ان میں سے ایک خراب ہوچکا ہے جبکہ دیگر سے پانی نہیں نکل رہا ہے ـ کوپل شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مناسب اقدامات کیے جارہے ہیں ـ تُنگابھدرا ڈیم سے پانی کی سپلائی کے لیے پائپ لائن تیار کیے جارہے ہیں ـ مقامی لوگوں  نے مطالبہ کیا ہے کہ پائپ لائن کا کام مکمل کرکے کنکن کلّو دیہات کو بھی پانی سپلائی کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ـ دیہات سے تقریباً آدھ کلومیٹر پر یہ بورویل واقع ہے۔ اس بورویل سے پانی حاصل کرنے کیلئے ہاتھ سے پمپ کرنا پڑتا ہے ـ ایک گھڑا پانی بھرنے کیلئے تقریباً دس منٹ لگتے ہیں ـ

کوپل ضلع کے کنکن کلّو دیہات میں پینے کے پانی کیلئے لوگ میلوں کا فاصلہ طے کرنے پر مجبور

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز