ملک بھر میں بڑے جانوروں کی خرید وفروخت پر روک سے کسان پریشان

Sep 12, 2017 08:02 PM IST | Updated on: Sep 12, 2017 08:02 PM IST

الہ آباد / رائچور۔ جب سے مودی حکومت مرکز میں آئی ہے، ملک کے بیشتر صوبوں میں بڑے جانوروں کی خرید و فروخت بند ہے ۔ ایسے میں وہاں کے کسان خاصے پریشان ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ کوئی انہیں بتائے کہ وہ بوڑھے اور بیکار جانوروں کا کیا کریں جن کو پہلے بازار میں بیچ کر نئے جانور خرید لاتے تھے۔ کرناٹک اسٹیٹ فارمس ایسوسی ایشن کے ریاستی جنرل سیکریٹری یو بسوارجو اور ایسوسی ایشن کے ضلع صدر ویرنا گوڑا نے کہا کہ مرکزمیں برسر اقتدارمودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کا کسان طبقہ مختلف مسائل کا سامنا کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کاشتکاروں کو سبسڈی دینے اور قرضہ معاف کرنے جیسے فلاحی کاموں کی مخالف ہے ۔ اسی طرح حکومت نے ملک میں بڑے جانوروں کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کرکے کسانوں کو مختلف الجھنوں میں ڈال دیا ہے ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جب بڑا جانور بیل بھینسا کام کے قابل نہ ہو اور گائے وبھینس دودھ دینے کے قابل نہ ہوں تو انکا کیا کیا جائے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت گوشت، دودھ، دہی جیسی بڑی صنعتوں کو اپنے قبضے میں کرکے انہیں بین الاقوامی تجارتی اداروں کو سونپنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ بسواراجو نے ملک میں مسلمانوں اور دلتوں پر ہورہے حملوں کی بھی مذمت کی

وہیں یو پی میں سلاٹر ہاؤس پر لگی پابندی کے خلاف یہاں بھی اب کسانوں نے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے ۔آل انڈیا کسان مزدور سبھا نے سلاٹر ہاؤس پر لگی پابندی اور بڑے جانوروں کے فروخت میں آ رہی پریشانیوں کے خلاف آئندہ 6 اکتوبر سے ریاست غیر پیمانے پرتحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ آل انڈیا کسان مزدور سبھا کے ریاستی صدر ڈاکٹرآشیش متل نے ای ٹی وی کو بتایا کہ یو پی میں سلاٹر ہاؤس پر پابندی لگنے سےکسان مالی بدحالی کا شکار ہو گیا ہے۔ آشیش متل نے کہا کہ کسان غیرمنافع بخش بڑے جانوروں کو سلاٹر کے لئے بازار میں فروخت کر دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے جانوروں کے سلاٹر اوران کے فروخت پر پابندی سے کسانوں میں سخت ناراضگی ہے ۔ آشیش متل نے کہا کہ ریاستی حکومت کے اس رویہ کے خلاف جلد ہی کسان سڑکوں پر اتریں گے ۔

ملک بھر میں بڑے جانوروں کی خرید وفروخت پر روک سے کسان پریشان

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز