گلبرگہ : مسلم چائے والے کی دوکان پر حملہ ، توڑ پھوڑ اور مارپیٹ ، سری رام سینا اور سوامی سدلنگیا پر کا الزام

Oct 22, 2017 01:58 PM IST | Updated on: Oct 22, 2017 01:58 PM IST

گلبرگہ :ضلع کے آندولہ میں سری رام سینا اور ان کے کارکنوں پر ایک مسلم شخص کے ساتھ مارپیٹ کا الزام لگا ہے۔ تاہم اس واقعہ کے ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود ضلع انتظامیہ اور پولیس ملزمین بشمول سری رام سینا لیڈر سدلنگیا سوامی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کررہی ہے، جس کی وجہ سے دلت اور مسلم تنظیموں میں تشویش پائی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ ضلع گلبرگہ کے تعلقہ جیورگی کے دیہات اندولہ کے بس اسٹینڈ پر ضعیف و معمر شخص عبد القادر کی چائے کی دوکان تھی ، جو آج کل کافی بے بس نظر آ رہے ہیں ۔ خوف سے ایسا سہمے ہیں کہ بات بھی نہیں کرپا رہا ہے۔ ان کا قصور بس صرف اتنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ ان کی چائے کی ایک دکان ہے ، جو کہ خوش قسمتی سے ماسٹر پلان میں بچ گئی۔ متاثرین بتاتے ہیں کہ سری رام سینا کے مقامی کارکنوں کو یہ ہضم نہیں ہوا اور انھوں نے آکر ان پر حملہ کر دیا اور ان کے ساتھ شدید طور پر مار پیٹ کر زخمی کر دیا ۔متاثرین پہلے گلبرگہ جنرل اسپتال میں اور اب ایک پرائیوٹ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

گلبرگہ : مسلم چائے والے کی دوکان پر حملہ ، توڑ پھوڑ اور مارپیٹ ، سری رام سینا اور سوامی سدلنگیا پر کا الزام

ایسی بات بھی نہیں ہے کہ ضلع انتظامیہ اس واقعہ سے واقف نہیں ہے۔ گلبرگہ نگراں کار وزیر ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے بھی اسپتال پہنچ کر متاثرین کی عیادت کی ، لیکن سد لنگیا سوامی اور دیگر ملزمین کی گرفتاری کے تعلق سے صرف یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ پولیس اور ضلع انتظامیہ کی اس خاموشی سے دلت اور مسلم تنظیمیں چراغ پا ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گنیش وسرجن کی تقریب سے اشتعال پھیلانے کے الزام میں گزشتہ26 ستمبر کو ہی سدلنگیا سوامی کے خلاف غیر ضمانتی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ اس سلسلہ میں بھی ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہو ئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز