کرناٹک : حکومت کی رائچور ضلع کے اوپیک اسپتال کو پھر سے نجی ادارہ کو سونپنے کی تیاری

Mar 24, 2017 09:28 PM IST | Updated on: Mar 24, 2017 09:28 PM IST

رائچور : موجود ہ دور میں ایسا لگتا ہے کہ تعلیم اور طبی شعبہ مکمل طورپر دولت بٹورنے کا آسان ذریعہ بن گیا ہے۔ یہاں تک کہ سرکاری اور چیریٹیبل اسپتالوں میں بھی غریبوں سے پیسہ اینٹھا جا رہا ہے ۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی غریبوں کے لیے بے فیض رائچور کے ایک خیراتی اسپتال کا حال بھی کچھ الگ نہیں ۔

کرناٹک کے رائچور ضلع کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی برسوں پہلے آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز یعنی اوپیک کی جانب سے ایک اسپتال قائم کیا گیا تھا ۔ اسپتال کے قیام کے لئے اوپیک کی جانب سے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے تھے ۔ ابتدائی دنو ں میں اس اسپتال کو سرکاری اسپتال کی طرز پر چلایا جاتا تھا، مگر اعلیٰ معیاری علاج کی فراہمی کے لیے مختلف شعبوں میں اسپشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث حکومت نے چند برسوں کے بعد اس اسپتال کو حیدرآباد کے مشہور اسپتال اپولو کو چند شرائط کے ساتھ حوالے کر دیا ۔ بی پی ایل کارڈ ہولڈرس کو مفت علاج کی شرط بھی رکھی گئی تھی اوراس کے علاج پر جتنا خرچ آتا تھا ، وہ حکومت ادا کرتی تھی ۔

کرناٹک : حکومت کی رائچور ضلع کے اوپیک اسپتال کو پھر سے نجی ادارہ کو سونپنے کی تیاری

تاہم بعد میں ان الزامات کے بعد کہ اپولو گروپ نے اسپتال میں غریب خاندان کے علاج کے اخراجات میں بدعنوانی کی اور مریض کے علاج پر آئے خرچ سے کئی گناہ زائد رقم وصول کی ، اپولو اسپتال سے حکومت کا معاہدہ منسوخ ہوگیا اور یہ اسپتال کئی برسوں تک بند رہا ۔ بتایا جارہا ہے کہ سدا رمیا حکومت نے گذشتہ تین برسوں کے دوران 57 کروڑ روپے خرچ کیے ، اس باوجود استفادہ کنندگان کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا ۔

سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ رائچور انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ڈائریکٹر کویتا پاٹل اس کو چلانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہیں ۔ حکومت اس اسپتال کو وزرات طبی تعلیم سے وزارت صحت میں منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ، جس کے بعد اس کو کسی نجی طبی ادارہ کو اپنی شرائط پردوبارہ سپرد کیاجاسکتا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق مقامی عوامی نمائندوں نے حکومت کی اس پہل پر رضا مندی ظاہر کردی ہے اور بعض اداروں نے اوپیک اسپتال کو چلانے میں اپنی دلچسپی بھی دکھائی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز