گورنمنٹ اقلیتی جونیرکالج اردو میڈیم کرنول کے تئیں حکومت کی بے توجہی

Oct 11, 2017 07:35 PM IST | Updated on: Oct 11, 2017 07:35 PM IST

کرنول۔ گورنمنٹ اقلیتی جونیر کالج کرنول 2014 میں قائم کیا گیا۔ لیکن آج تک ریاستی حکومت نے اس کالج میں مستقل پوسٹ منظور نہیں کی  ہیں ۔ جبکہ کالج میں 180 سے زائد طلبہ زیرتعلیم ہیں ۔ کالج میں صرف پرنسپل اور ایک کلرک دیا گیا ہے ۔ وہ بھی ڈپیوٹیشن پر ہیں۔ کالج اور اردو میڈیم طلبہ کے مستقبل کو نظر میں رکھتے ہوئے چند اردو والے مفت میں گیسٹ لیکچرر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کالج میں نہ تو لیب ہے  اور نہ ہی کمپیوٹر کی تعلیم دینے والے اساتذہ ۔ پرنسپل شیخ شاہ ولی نے بتایا کہ کالج کو 2014میں قائم کیا گیا۔ لیکن اب تک ایک بھی پوسٹ کی منظوری حکومت نے نہیں دی ہے ۔ جبکہ 180 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں ۔ انھوں نے حکومت سے خواہش کی ہے کہ جلد از جلد حکومت کالج میں کام کررہے بسٹ لکچرر کی تنخواہ جاری کرتے ہوئے مستقل لکچرر کی بھرتی کرے ۔ دوسری جانب طلبہ اور لکچرر بھی یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومت کالج پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے خالی اسامیوں کو پُر کرے ۔

گورنمنٹ اقلیتی جونیرکالج اردو میڈیم کرنول کے تئیں حکومت کی بے توجہی

ری کمنڈیڈ اسٹوریز