سپریم کورٹ ہادیہ۔ شیفین معاملہ میں کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کا جائزہ لے گا

Oct 03, 2017 07:21 PM IST | Updated on: Oct 03, 2017 07:21 PM IST

نئی دہلی۔  سپریم کورٹ اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا کسی ہائیکورٹ کو اپنے رٹ (مفاد عامہ کے تحت عرضی سے متعلق) اختیارات کا استعمال کرکے الگ الگ مذاہب کے لڑکے اور لڑکی کے درمیان ہوئی شادی کومنسوخ کرنے کا حق ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے معاملے کی سماعت کے لئے نو اکتوبرکی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ اس طرح کی کسی عرضی پرلڑکے اورلڑکی کی شادی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے دوران کیرل ہائی کورٹ کے ذریعہ ایک ہندو دوشیزہ اورمسلم نوجوان کے نکاح کوکالعدم کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے۔ عدالت عظمی نے سوال کیا کہ کیرل ہائی کورٹ نے دفعہ 226 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرکے ہندو لڑکی اکھیلا اشوکن(اب ہادیہ)اور مسلم نوجوان شیفین کے درمیان ہوئی شادی کو کالعدم کیسے کردیا۔ بنچ نے کہا کہ کوئی باپ اپنی چوبیس سال کی بیٹی کو اس کی نجی زندگی کے سلسلے میں دباو نہیں ڈال سکتا ۔ اکھیلا نے مذہب تبدیل کرکے اپنا نام ہادیہ رکھ لیا تھا اور شیفین سے گذشتہ سال دسمبر میں نکاح کرلیا تھا۔ اکھیلا کے والد نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جس نے نکاح کو کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ ہادیہ۔ شیفین معاملہ میں کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کا جائزہ لے گا

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو شیفین نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔عدالت نے اس معاملے کی جانچ این آئی کو سونپ دی تھی۔ جس کی نگرانی کا ذمہ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس آر وی رویندرن کو سونپا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز