تمل اور اردو زبان کے درمیان گہرا رشتہ، تمام ریاستوں کے اردورسائل چنئی میں دستیاب

چنئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں اردو کا ماحول دیکھنے کوملتا ہے۔ اردو کتابیں،اردورسالے، اردواخبارات یہاں کے بُک ڈپوں میں فروخت ہوتےہیں۔

Apr 29, 2017 06:38 PM IST | Updated on: Apr 29, 2017 06:38 PM IST

بنگلورو۔ اردو زبان نے جہاں کہیں بھی قدم رکھا ہے اپنا سکہ جمایا ہے، اپنا اثردکھایا ہے۔  دراویڑوں کی زمین بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے۔ تمل ناڈو مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اردو زبان اور تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ چنئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں اردو کا ماحول دیکھنے کوملتا ہے۔ اردو کتابیں،اردورسالے، اردواخبارات یہاں کے بُک ڈپوں میں فروخت ہوتےہیں۔ چنئی سے نکلنے والے روزنامہ دی مسلمان کےعلاوہ ملک کےتقریبا سبھی ریاستوں کے اردورسالے شہرچنئی میں دستیاب ہیں۔

تمل ناڈو کے باشندے بھلے ہی اپنی مادری زبان تمل کو جنون کی حد تک چاہتے ہوں ۔ لیکن اس زبان میں اردو اور فارسی کے کئی الفاظ رائج ہیں۔ عدالت، زراعت، تجارت، فلم اورصحافت میں اردو کے الفاظ کا بخوبی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح تمل میں بولی جانے والی دکنی اردو میں تمل کے کئی الفاظ موجود ہیں ۔ یعنی تمل اور اردو کے درمیان گہرارشتہ عرصہ دراز سے قائم ہے۔ اردو اور تمل زبانوں کے درمیان ترجموں کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ مرزا غالب، علامہ اقبال، فیض احمد فیض سمیت اردو کے کئی بڑے شعرا کے کلام کا تمل میں ترجمہ ہوا ہے۔ اسی طرح تمل کے مشہورادیبوں کے منتخب کلام کا اردو میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔

تمل اور اردو زبان کے درمیان گہرا رشتہ، تمام ریاستوں کے اردورسائل چنئی میں دستیاب

Loading...

Loading...

ری کمنڈیڈ اسٹوریز