وراٹ کی کپتانی میں ٹیم انڈیا کی جیت کا سکسر، بنگلہ دیش کو 208 رن سے شکست دی

Feb 13, 2017 03:23 PM IST | Updated on: Feb 13, 2017 06:16 PM IST

حیدرآباد۔  آف اسپنر روی چندرن اشون (73 رن پر چار وکٹ) اور لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ (78 رن پر چار وکٹ) کی جوڑی نے ایک بار پھر اپنا کام کر دکھایا اور ہندوستان نے آج بنگلہ دیش سے واحد ٹیسٹ میچ 208 رن کے بڑے فرق سے جیت لیا۔ کپتان وراٹ کوہلی کی کپتانی میں میں یہ 15 ویں کامیابی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ محمد اظهرالدين کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان کے تیسرے سب سے کامیاب کپتان بن گئے ہیں۔ہندوستان نے کل بنگلہ دیش کو 459 رن کا ہدف دیا تھا جس کا تعاقب کرتے ہوئے بنگلہ دیش نے پانچویں اور آخری روز تین وکٹ پر 103 رن سے آگے کھیلنا شروع کیا اور اس کی دوسری اننگز کپتان وراٹ کوہلی کے آخری وکٹ پر ریفرل مانگنے کے بعد 100.3 اوور میں 250 رن پر سمٹ گئی۔

ہندوستان کی 2015 میں سری لنکا کو شکست دینے کے بعد سے یہ مسلسل چھٹی سیریز جیت ہے۔وراٹ کی کپتانی میں ہندوستان19 میچوں میں اب تک ناقابل تسخیر رہا ہے۔وراٹ نے اس کے ساتھ ہی سنیل گواسکر کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وراٹ ملک کے تیسرے سب سے زیادہ کامیاب ٹیسٹ کپتان بھی بن گئے ہیں۔ ان سے آگے سوربھ گانگولی اور مہندر سنگھ دھونی ہیں۔ٹیم انڈیا کی جیت ریفرل پر ملی جس کی وکالت خود کپتان وراٹ نے کی تھی۔ وراٹ کے زور دینے کے بعد ہی ہندوستان کی سیریز میں ریفرل کا استعمال کیا گیا تھا اور ہندوستان کو آخری وکٹ نکالنے میں اس کا پورا فائدہ ملا۔آف اسپنر اشون نے تسکین احمد کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی۔ امپائر میھایس ایرسمس نے سیکنڈ امپائر جوئل ولسن سے تبادلہ خیال کے بعد تھرڈ امپائر کی مدد مانگی۔ ایرسمس نے اپنا فیصلہ آؤٹ دیا لیکن تھرڈ امپائر نے بلے باز کو ناٹ آوٹ قرار دیا۔ تیسرے امپائر نے اس وقت ایل بی ڈبلیو کو چیک نہیں کیا لیکن وراٹ نے فوری طور پر ایل بی ڈبلیو کے لیے ریفرل مانگا اور ہندوستان کو ایل بی ڈبلیو فیصلے کے ساتھ ہی جیت مل گئی۔یعنی ایک گیند پر دو ریویو ہوئے اور اشون کے کھاتہ میں چوتھا وکٹ آ گیا۔

وراٹ کی کپتانی میں ٹیم انڈیا کی جیت کا سکسر، بنگلہ دیش کو 208 رن سے شکست دی

اشون نے 30.3 اوور میں 73 رن پر چار وکٹ لئے جبکہ جڈیجہ نے 37 اوور میں 78 رن پر چار وکٹ حاصل کئے۔اشون نے میچ میں کل چھ وکٹ اور جڈیجہ نے بھی چھ وکٹ حاصل کئے۔دونوں نے میچ میں کل 12 وکٹیں حاصل کیں۔دوسری اننگز میں تیزگیندباز ایشانت شرما نے 13 اوور میں 40 رن پر دو وکٹ لئے۔ہندوستانی کپتان وراٹ کو ان کی ڈبل سنچری کیلئے مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ہندوستان نے یہ واحد ٹیسٹ میچ جیت لیا لیکن اس میچ میں بنگلہ دیش نے اپنی جدوجہد سے سب کو متاثر کیا۔ ہندوستانی میدانوں پر نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیمیں ہندوستانی اسپنروں کے سامنے چار دنوں کے اندر ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو رہی تھیں جبکہ بنگلہ دیش نے اس میچ کو پانچویں دن تک پہنچایا۔ بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں 388 رنز بنانے کیلئے 127.5 اوور کھیلے اور دوسری اننگز میں 250 رنز بنانے کیلئے 100.3 اوور کھیلے۔ بنگلہ دیش نے اس طرح ہندوستانی سر زمین پر سال 2000 کے بعد سے چوتھی اننگز میں دوسرا سب سےبڑا اسکور بنایا۔ بنگلہ دیش نے صبح تین وکٹ پر 103 رن سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ محمود اللہ نے نو اور شکیب الحسن نے 21 رنز سے اپنی اننگز کو آگے بڑھایا۔بنگلہ دیش کو چوتھا جھٹکا جلد ہی ملا جب جڈیجہ نے شکیب کو چتیشور پجارا کے ہاتھوں شارٹ لیگ پر کیچ کرا یا۔ شکیب نے 50 گیندوں پر 22 رنز میں چار چوکے لگائے۔محمود اللہ اور کپتان مشفق الرحیم (23) نے پانچویں وکٹ کے لئے 56 رن کی ساجھےداری کی۔ پہلی اننگز میں 127 رنز بنانے والے مشفق بہترین تال میں نظر آرہے تھے لیکن اشون نے دوسری اننگز میں بھی انہیں اپنا شکاربنا لیا۔

مشفق نے ایک خراب شارٹ کھیلا اور جڈیجہ نے مڈآف پر ایک آسان کیچ لیا۔مشفق نے 44 گیندوں پر 23 رنز میں دو چوکے اور ایک چھکا لگایا۔مشفق کے آؤٹ ہونے کے بعد شبیر رحمان (22) نے بھی محمود اللہ کا اچھا ساتھ دیا۔محمود اللہ نے 149 گیندوں میں سات چوکوں کی مدد سے 64 رنز بنائے جو ان کی 13 ویں نصف سنچری تھی۔ایشانت شرما نے شبیر کو ایل بی ڈبلیوآوٹ کیا۔ شبیر نے 61 گیندوں پر 22 رنز کی اننگز میں تین چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ایشانت نے محمود اللہ کوبھونیشور کے ہاتھوں کیچ کرایا اور بنگلہ دیش کی رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ وہ ساتویں بلے باز کے طور پر 225 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے۔مہدی حسن معراج نے 61 گیندوں میں چار چوکوں کی مدد سے 23 رن بنائے لیکن جڈیجا نے انہیں ردھمان ساہا کے ہاتھوں کیچ کرا یا۔ بنگلہ دیش کا آٹھواں وکٹ 242 کے اسکور پر گرا۔ جڈیجہ نے تیج الاسلام کو لوکیش راہل کے ہاتھوں کیچ کرایا۔

تیجل نے ایک بڑا شاٹ کھیلا اور راہل اور مرلی وجے دونوں ایک ساتھ اس کیچ کو لینے آگے آئے۔ دونوں نے ہیلمیٹ پہن رکھے تھے، اچھا یہ رہا کہ کوئی ٹکراو نہیں ہوا اور راہل نے کیچ حاصل کرلیا ۔تسکین احمد تیسرے امپائر کے فیصلے سے بچنے کے بعد دوبارہ ریفرل پر تھرڈ امپائر کا ہی شکار بنے۔ کپتان وراٹ نے یہ ٹیسٹ جیتنے کے بعد ایک اسٹمپ اکھاڑ اور اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے میدان کے باہر چل دیے۔ وراٹ نے اس میچ میں 204 رنز بنائے تھے جو مسلسل چوتھی سیریز میں ان کی ڈبل ​​سنچری تھی اور یہ کامیابی حاصل کرنے والے وہ پہلے بلے باز بنے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز