Live Results Assembly Elections 2018

پیارومحبت کی زبان کیوں نہیں بولتے اویسی برادران؟

تلنگانہ کے عوام سے خوشنما وعدوں کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیوں کی الزام تراشی، سیاسی بیان بازی اور ایک دوسرے کے خلاف سخت زبانی حملوں کا سلسلہ بھی عروج پر ہے

Dec 04, 2018 02:50 PM IST | Updated on: Dec 04, 2018 03:56 PM IST

تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے لئے ہونے والی ووٹنگ میں اب محض چند دن ہی باقی بچے ہیں۔ ایسے میں سیاسی پارٹیوں نے ریاست میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ تلنگانہ کے عوام سے خوشنما وعدوں کے ساتھ ساتھ  سیاسی پارٹیوں کی الزام تراشی، سیاسی بیان بازی اورایک دوسرے کے خلاف سخت زبانی حملوں کا سلسلہ بھی عروج پرہے، جہاں ایک طرف ریاست میں کانگریس۔ ٹی ڈی پی کےعظیم اتحاد نے اپنی تشہیری مہم میں تیزی لائی ہے وہیں، دوسری طرف ریاست کی حکمراں ٹی آرایس اوراس کی حلیف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بھی تشہیری مہم میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔

وہیں، ملک کی سب سے بڑی پارٹی اور21 ریاستوں کے ساتھ مرکزمیں برسراقتدار بی جے پی بھی تلنگانہ میں کمل کھلانے کے لئے بیتاب نظرآ رہی ہے اوراس نے ریاست کے انتخابی میدان میں اپنے بڑے بڑے لیڈروں کواتاردیا ہے۔ بی جے پی نے انتخابی مہم میں ایسے چہروں کو بھی اتاردیا ہے جن پرفرقہ پرستی اورمنافرت پھیلانے کا الزام لگتا رہا ہے۔

پیارومحبت کی زبان کیوں نہیں بولتے اویسی برادران؟

اسد الدین اویسی: فائل فوٹو

Loading...

انتخابی مہم کے لئے گزشتہ 2 دسمبرکوحیدرآباد پہنچے بی جے پی کے فائربرانڈ لیڈراور اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران خود کوروک نہیں پائے۔ انہوں نے وقارآباد ضلع کے ایک شہرمیں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اویسی برادران اوران کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پرجم کرحملہ کیا۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگرتلنگانہ میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تواویسی کوبھی حیدرآباد سے اسی طرح بھاگنا پڑے گا، جیسے نظام حیدرآباد سے بھاگنے پرمجبورہوئے تھے۔

نظام حیدرآباد سے بھاگے تھے یا نہیں، یوگی جی نے تاریخ کوتوڑمروڑکرپیش کیا یا نہیں، یہاں میں اس بحث میں الجھنا نہیں چاہتا۔ یہ توتاریخ کا موضوع ہے اورتاریخ ہی اس کا بہتر جواب دے گی۔ لیکن ماہرین کی مانیں توان کی اس بات میں سچائی توضرورہے کہ بی جے پی کو جب بھی انتخابات میں اپنی شکست کا اندیشہ ستاتا ہے وہ اس طرح کی باتیں کرکے ’پولرائزیشن‘ کی کوشش کرنے لگتی ہے۔

اس سے پہلے بی جے پی صدر امت شاہ نے بھی تلنگانہ کے ضلع ورنگل میں اپنی ایک انتخابی ریلی میں کہا تھا کہ ٹی آرایس صدرکے چندرشیکھرراو نے مسلمانوں کو12 فیصد ریزرویشن دینے کی جوبات کہی تھی اسے کسی بھی صورت میں نہیں دینے دیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب تک بی جے پی ہے، مذہب کی بنیاد پرریزرویشن کی مخالفت کی جاتی رہے گی۔ نہ ہم 12فیصد ریزرویشن دیں گے اورنہ کسی کو دینے دیں گے۔ یہاں تک کہ راجستھان میں جاری انتخابی گہما گہمی کے درمیان وزیراعظم نریندرمودی کو بھی اپنے ایک اجلاس میں یہ کہنا پڑا کہ کانگریس مسجدوں اورچرچوں کوبجلی تو دے رہی ہے، مگرمندروں میں اسے بجلی دینا منظورنہیں۔

اکبرالدین اویسی: فائل فوٹو

بتا دیں کہ کانگریس نے ٹی آر ایس کو ہرحال میں شکست دینے کے لئے اقلیتوں کے لئے اپنے منشورمیں کئی دلکش وعدے کئے ہیں، جن میں مسجدوں اورچرچوں کومفت بجلی اوراماموں اورپادریوں کو ہرمہینہ تنخواہیں دینے کی بات کہی گئی ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے اویسی کوبھگانے کے بیان کے بعد ہی اویسی برادران نے یوگی اوروزیر اعظم مودی پرزبانی حملوں کی بوچھارکردی۔ اسدالدین اویسی نے قدرے محتاط انداز میں جواب دیا کہ ’’یوپی کے وزیراعلیٰ کہہ رہے ہیں کہ اگرتلنگانہ میں بی جے پی کی حکومت بنے گی تواویسی کو بھگا دیں گے، جس طرح نظام کوبھگا دئیے تھے۔ میں ان سے پوچھ رہا ہوں یہ بھگانے کی بات آپ کب سے کررہے ہیں‘‘؟ انہوں نے سوالیہ اندازمیں پوچھا کہ ’’یہ ملک آپ کا ہے، میرا نہیں ہے؟‘‘۔ اویسی نے کہا کہ ’’آپ تاریخ تو جانتے نہیں۔ تاریخ میں زیرو ہیں آپ۔ اگر پڑھنا نہیں آتا توکسی پڑھنے والے سے پوچھو‘‘۔

یوگی آدتیہ ناتھ اوراسدالدین اویسی کے درمیان زبانی حملوں میں اویسی کے چھوٹے بھائی اکبرالدین اویسی بھی کود پڑے۔ اتوارکوحیدرآباد کے چارمیناراسمبلی حلقہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چھوٹے اویسی نے وزیراعظم نریندرمودی پرطنزکے تیرچلائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے وزیراعظم جب دیکھو چائے کی بات کرتے ہیں۔ چائے، چائے، چائے۔۔۔ ہر وقت بس چائے اورچائے والا۔ یہ چائے، وہ چائے، کڑک چائے، نرم چائے۔ چائے والا بس چائے ہی کی بات کرتا ہے۔ یہ کیسے وزیراعظم ہیں‘‘َ۔

اکبر الدین اویسی نے یوگی آدتیہ ناتھ کو لے کربھی سخت بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کیسے۔ کیسے کپڑے پہنتے ہیں اوریہ وزیراعلیٰ ہیں۔ کہتے ہیں اویسی کوبھگا دیں گے، ان کی اوقات کیا ہے، اویسی کی آنے والی ہزارنسلیں بھی یہاں رہیں گی اورلڑیں گی‘‘۔

زبانی حملے کرنے اورطنزکے تیرچلانے میں اس طرح چھوٹے بھائی بڑے بھائی سے کہیں آگے نکل گئے۔ بڑے بھائی نے تو قدرے محتاط انداز میں جوابی حملہ کیا تھا، لیکن چھوٹے بھائی تواپنے زبانی حملوں میں کافی آگے بڑھ گئے۔

میرے خیال میں ایک ایسے دورمیں جب کہ فرقہ واریت کی بات کر کے پولرائزیشن کی سیاست کی جا رہی ہے اوراس کے سہارے اقتدارتک پہنچا جارہا ہے اورایسے دورمیں جب کہ ملک کے دیگرمسلمان انتہائی احتیاط اوردانش مندی سے کام لےکرفرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کرتے ہوئے اس پرکسی قسم کا ردعمل ظاہرنہیں کرتے، یہی رویہ اویسی برادران کو بھی اپنانا چاہئے۔ انہیں نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ پیارومحبت سے دینا چاہئے۔ اویسی برادران کو تھوڑا تحمل اورصبرسے کام لینا چاہئے اورفرقہ وارانہ سیاست کا جواب فرقہ وارانہ اندازمیں دینے کے بجائے مثبت اندازمیں اورتاریخی حقائق کی روشنی میں دینا چاہئے۔ جذباتی رویہ اختیارکرنے کے بجائے محتاط رویہ اختیارکرتے ہوئے جواب دیا جانا چاہئے۔ جذباتی تقریریں کرکے اویسی برادران مسلمانوں کے کچھ حلقوں میں مقبول توہوسکتے ہیں لیکن سبھی حلقوں میں توہرگزنہیں۔ کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جو لوگ جذبات کی رومیں بہہ کرفرقہ پرستی کا جواب فرقہ پرستی سے اورنفرت کا جواب نفرت سے دیتے ہیں، اس سے مسلمانوں کا توکچھ بھلا نہیں ہورہا ہے، البتہ فرقہ پرستوں کا ضروربھلا ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:    تلنگانہ کی سیاست میں آپ اویسی سے محبت کریں یا نفرت...نظرانداز نہیں کر سکتے

یہ بھی پڑھیں:  اسدالدین اویسی کا یوگی آدتیہ ناتھ کو دوٹوک جواب، کوئی بھی ہمیں ملک سے بھگا نہیں سکتا

یہ بھی پڑھیں:   تلنگانہ میں اویسی کی حالت پتلی ، ستا رہا ہے حیدرآباد کھو جانے کا ڈر

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز