ا گر میں ٹینس کھلاڑی نہیں ہوتی تو ڈاکٹر ہوتی : ثانیہ مرزا ، پڑھئے ، شوہر شعیب ملک کو کس چیز کی ہے سب سے زیادہ شکایت

Oct 01, 2017 02:26 PM IST | Updated on: Oct 01, 2017 02:36 PM IST

حیدرآباد: ہندوستان کی مشہور ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے کہا ہے کہ ا گروہ ٹینس کھلاڑی نہیں ہوتی تو ایک ڈاکٹر ہوتی لیکن وہ اب بھی انٹرئیر ڈیزائنر بننا چاہتی ہیں کیونکہ وہ انٹرئیر ڈیزائننگ سے کافی محبت کرتی ہیں اور جب وہ ٹینس کھیلناچھوڑ دیں گی تو انٹرئیر ڈیزائنر بننا پسند کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے ٹینس کھلاڑی بننا چاہتی تھیں،جس کے لئے انہوں نے 6سال کی عمر میں ہی ٹینس ریکٹ کو اپنے ہاتھ میں تھام لیا تھا۔ساتھ ہی شوق میں رولر اسکیٹنگ بھی کرتی تھیں تاہم وہ ٹینس میں بہتر مظاہرہ کرسکتی تھیں جس کے لئے انہوں نے ٹینس کھلاڑی بننے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہاکہ والدین نے اس میں ان کی کافی حمایت کی۔ابتدا ہی سے ان کو اس کھیل سے محبت تھی تاہم اس تعلق سے فیصلہ کرنے میں ان کو دشواری تھی کیونکہ ان کی عمر کافی کم تھی تاہم 12سال کی کو وہ جب پہنچی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ٹینس کی کھلاڑی بنیں گی۔

انہوں نے کہاکہ اس خواب کا انہوں نے تعاقب کیا،اس کے بعد ان کاکھیل کاسفر جاری رہا، پہلے ریاست ، پھر ملک اور پھر بیرون ملک بھی کے بعد دنیائے ٹینس میں اپنا رول ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے ان مقاصد کے حصول میں وہ اپنے آپ کو خوش قسمت مانتی ہیں ۔وہ اپنے والدین ،خاندان،شہر حیدرآباد کے عوام جنہوں نے ان کی کافی حمایت کی کاشکریہ ادا کرتی ہیں،حیدرآباد کے عوام نے انہیں بڑھتے ہوئے دیکھا۔لوگوں کاخواب تھا کہ وہ ومبلڈن کھیلے اور جیتے اس کیلئے وہ عوام بالخصوص اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں ۔

ا گر میں ٹینس کھلاڑی نہیں ہوتی تو ڈاکٹر ہوتی : ثانیہ مرزا ، پڑھئے ، شوہر شعیب ملک کو کس چیز کی ہے سب سے زیادہ شکایت

ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا ۔ فائل فوٹو

ثانیہ مرزاجو کھیل میں اپنا نام روشن کرنے کی خواہش مند لڑکیوں کے لئے رول ماڈل ہیں نے اپنے کھیل کے سفر کے آغاز کے سلسلہ میں ایک تلگو نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں اپنے کیرئیر اور نجی زندگی کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ ثانیہ مرزا نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ خواتین کی مساوات کے لئے کام کر رہی ہے۔ثانیہ نے کہا کہ خدا نے ان کو یہ طاقت بخشی ہے کہ لوگ ان کی بات کو سنیں۔جب بھی کوئی موقع ملتا ہے لڑکیوں سے یہ کہتی ہیں کہ دنیا میں کسی سے خود کو کمتر نہ سمجھیں تب ہی وہ حقیقی معنوں میں وہ خود کو بااختیار بناسکتی ہیں۔لوگ ، خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں اور مساوات کی بات کرتے ہیں لیکن مساوات خود میں آنا چاہئے ،خود اختیاری خود میں ہونی چاہئے۔جب تک آپ یقین نہیں کریں گے کہ آپ بااختیار ہیں ،آپ دوسروں سے مساوی ہیں،اور آپ جو کرنے کا عزم کرتی ہیں وہ حاصل کرناچاہتی ہیں تب تک لوگ یقین نہیں کریں گے۔

sania

انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی وہ مردوں سے کہنا چاہتی ہیں کہ خواتین کا احترام کریں اور ان سے مساویانہ سلوک کریں تاہم خواتین بالخصوص دیہی علاقوں کی خواتین کو بھی اس کا یقین رکھناچاہئے کہ وہ خود اعتمادی پیداکریں ۔تعلیم یافتہ طبقہ اس میں یقین رکھتا ہے لیکن وہ محسوس کرتی ہیں کہ غیر تعلیم یافتہ لوگوں تک یہ پیام پہنچناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق اُس پس منظر رکھنے والے خاندان سے تعلق ہے جہاں سوائے کرکٹ کے دوسرے کھیل کو د کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی جہاں لڑکوں کو اکیڈیمیز بھیجا جاتا تھا لیکن انہوں نے کچھ کر دکھایا۔کھیل کود کو پیشہ وارانہ پسندبنانے کے لئے کافی کچھ کیا جانا ہے۔آج کھیل کود ایک پیشہ بن گیا ہے۔جس طرح والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر ،وکیل ،معلم بناتے ہیں اسی طرح پروفیشنل ٹینس یا بیڈ منٹن کھلاڑی باکسر یا جو آپ چاہیں ، بچوں کو بنانے کے لئے کام کریں۔

انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب چھوٹے چھوٹے بچے کافی ٹینس کھیلتے ہیں اس سے انہیں اچھا لگتا ہے۔ٹینس کی وراثت آگے جانی چاہئے۔فٹنس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ثانیہ نے کہا کہ درحقیت وہ کافی سست خاتون ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی کام آپ کرتے ہیں وہی آپ کا انرجی فنڈا ہے۔انہوں نے کہاکہ جو بھی کام چاہے وہ ٹینس کھیل ہو ، شوٹنگ ہو اس سے وہ لطف اندوز ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ24سال سے ٹینس کھیل رہی ہیں اس سے ان کو محبت ہے۔

sania shoib

کھانا بنانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ان کو کھانا بنانا نہیں آتاالبتہ کھانے سے محبت ہے۔ اس تعلق سے سب سے زیادہ شکایت ان کے شوہر کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے سات سال میں ان کے شوہر کے لئے وہ صرف چائے ہی بنا پائی ہیں۔ ثانیہ نے کہا کہ ہر جوڑے کی زندگی میں اتار چڑھاو ہوتاہے۔ ہم جیسی اہم شخصیتوں کے لئے بھی عام لوگوں کی طرح ہی مسائل ہوتے ہیں ۔ان کے اور شوہر کے درمیان ایک دوسرے کا باہمی احترام رہا ہے،جس سے تعلقات جاری ہیں۔اگر آپ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور جو وہ کرتے ہیں اس کا احترام کرتے ہیں،ان کے عقائد کا احترام کرتے ہیں یہ بہتر ہوتا ہے ۔

اس سوال پر کہ ثانیہ مرزا کی کتاب منظرعام پر آئی ،لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ آپ کی زندگی پر فلم کب آنے والی ہے تو انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے بعض لوگ ان سے رجوع ضرور کر رہے ہیں ابھی کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں آئی ہے۔ میڈیا نے یہ خبر اڑا دی کہ ان کی زندگی پر فلم بنائی جانے والی ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اچھی بات ہوگی ۔ اس سوال پر کہ ان کی زندگی پر اگر فلم بنائی جاتی ہے اور اس میں کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو کیا اس کا حصہ بننا پسند کریں گی ، تو ثانیہ نے کہا ’’مجھے ایسا نہیں لگتا ، میں کیمرہ فرینڈلی نہیں ہوں۔انٹرویوز دینے میں بہتر محسوس کرتی ہوں۔اداکاری میرے لئے کچھ مشکل ہوگی۔‘‘

saniamirzapti-m1

اس سوال پر کہ فلمی پردہ پر ان کا رول اداکرنے والی امکانی اداکاراؤں میں دپیکا،پرینیے کا نام سامنے آیا ۔وہ کیا محسوس کرتی ہیں کہ کونسی اداکارہ ان کا کردار بہتر انداز میں کرسکتی ہے تو ثانیہ نے کہا کہ اس فلم کے بارے میں یہ سب کچھ میڈیا کی اطلاعات ہیں۔ کسی اداکارہ کے بارے میں انہوں نے اس تعلق سے نہیں سوچاتاہم انہوں نے کہا کہ ہماری فلم اندسٹری میں کئی با کمال اداکارئیں ہیں۔اگر ان کا رول اداکرنے والی اداکارہ کا انتخاب کرنے کا موقع دیا جاتاہے تو انہوں نے کہا کہ یہ منصفانہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ فلموں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی ۔ انہوں نے اپنی نجی زندگی پر کہا کہ وہ آسا ن زندگی بسر کرتی ہیں اور تہوار منانے کا زیادہ وقت نہیں مل پاتا۔خاندان اوردوستوں سے وہ کافی قریب ہیں۔انہوں نے کہا کہ تہوار اپنے چاہنے والوں سے ملنے اور ان سے جڑنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔انہوں نے خدا کا شکر اداکرتے ہوئے کہا کہ زندگی بہتر طورپر گزر رہی ہے ۔ہم نے تصور نہیں کیا تھا اتنا خدا نے اتنا دے گا۔

sania

نئی نسل کو اپنے پیام میں ثانیہ نے کہا کہ خود پر یقین رکھیں ۔جس کسی چیز کابھی آپ انتخاب کریں گے اگر اس سے لطف اندوز نہیں ہوں گے تو اس کا بہتر ہونا بڑا مشکل ہوجائے گا۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جس لمحہ وہٹینس سے لطف اندوز نہیں ہوں گی وہ اسے چھوڑ دیں گی۔کوئی خواہش جس کے پورے ہونے کی تمنا ہو۔تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں اپنے خوابوں کا تعاقب کیا۔ وہ خوابوں میں ہی رہنا پسند کریں گی۔صحت ، دولت ، شہرت،مسرت اللہ تعالی نے دیا ہے اس کے لئے اللہ تعالی کے شکرگزار ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز